گجرات کا قصائی ، رسوائی کا سوداگر، گولی کابیوپاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پاک فوج کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد اپنے ہوش وحواس کھو کر پاکستانی قوم کو گولی کی دھمکی دینے والے نریندرا مودی جیسے بزدل اور متعصب شخص کا انجام قریب ہے۔ اس کا جھوٹ اس کی سیاست اس کی دھمکیاں سب دفن ہونے کو ہیں۔ تاریخ میں یہ شخص گجرات کا قصائی، کشمیر کاجلاد اورجنونی ہندوتوا کے پجاری کے طور پر یاد رکھا جائےگا اوراس کاانجام تاریخ کےان سیاہ اور نفرت زدہ کرداروں جیسا ہو گا جنہیں دنیا بھول جانا ہی بہتر سمجھتی ہے۔
مودی کا سیاہ ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ سال 2002 ء میں گجرات میں جو خونی طوفان آیا وہ مودی کی سرپرستی میں آیا۔ اس وقت وہ گجرات کا وزیر اعلی تھا اور ہزاروں مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ عورتوں کی عصمتیں تار تار کی گئیں، بچے زندہ جلائےگئے، اوربستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔ اس منظم قتلِ عام پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں چیختی رہیں، حتی کہ امریکہ نے نریندر مودی پر ویزہ پابندی عائد کر دی۔ وہ تقریبا 9 سال تک امریکہ میں داخل نہیں ہو سکا۔یہ پابندی کسی عام سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے قتل عام کے سبب تھی۔ جس شخص کو دنیا دہشت گرد کہے وہ آج بھارت کا وزیر اعظم ہے اور یہی دنیا کی منافقت اور عالمی ضمیر کی کمزوری کا ثبوت ہے۔مودی صرف مسلمانوں کے خلاف متعصب نہیں بلکہ وہ بھارت کے سیکولر آئین کے خلاف اعلانِ جنگ کرچکا ہے۔ اس نے ساورکر اور گوڈسے کے نظریات کو اپنایا۔ گاندھی کے بھارت کو ایک انتہا پسند، فاشسٹ ریاست میں بدل دیا ہے۔ بابری مسجد کا انہدام، شہریت کے ترمیمی قانون، مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کا خاتمہ اوراقلیتوں پرظلم وستم یہ سب مودی راج کےنمایاں کارنامے ہیں۔ہندوتوا نظریہ دراصل بھارت میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو باقی اقوام پر مسلط کرنے کا خواب ہے جس کے تحت مسلمان، عیسائی، دلت، سکھ سب دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔ یہی نظریہ بھارت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے اور اس کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔
چند روز قبل گجرات کی انتخابی ریلی میں نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کو دہشتگردی سے چھٹکارا دلانے کے لیے عوام کو خود قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ میری گولی تو ہے ہی ‘‘۔ یہ بیان کسی عام سیاستدان کا نہیں بلکہ ایک ایٹمی ریاست کے سربراہ کا تھا ۔ ایک ایسا شخص جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نمائندہ کہتا ہے۔یہ بیان اس کے جنونی ذہن، جنگی جنون اور ذہنی دیوالیہ پن کا واضح ثبوت ہے۔ مودی اب الفاظ کی حد تک بھی سفارت یا شائستگی کا دامن چھوڑ چکا ہے۔ جو شخص امن کی زبان بولنے کےبجائےگولی کی بات کرے وہ دراصل اپنی سیاسی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
جب بھارت نے چھ اور سات مئی کو پاکستان پرحملہ کردیاتو پاکستان نے اپنے عزم، استقلال اور عسکری قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔ پاک فضائیہ نے دشمن کے قیمتی رافیل طیاروں کو زمین بوس کیا، بھارتی چوکیاں تباہ کی گئیں اور دشمن کے حواس باختہ فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کے بعد مودی کی ساری گیدڑ بھبکیاں، بڑھکیں اور گولی کا غرور ریت کی دیوار ثابت ہوا۔مودی کی چیخ و پکار دیکھنے کے قابل تھی۔ وہ امریکہ کی جانب اس طرح دوڑا جیسے کتے کی دم پر پیر رکھا جائے تو وہ چوں چوں کرتا بھاگتا ہے۔ جنگ کا شوق رکھنے والا ایک لمحے میں امن کا بھکاری بن گیا۔ امریکی صدر کو فون کیے، اقوام متحدہ سے درخواست کی اور اپنی عزت بچانے کی دہائیاں دیتا رہا۔
پاکستانی حملے کے بعد مودی کی کیفیت اس بھیگی بلی جیسی تھی جو کسی کونے میں دبکی، میاوں میاوں کرتی پھرے۔ اس کے چہرے پر بوکھلاہٹ، جسم میں لرزہ، اور زبان پر خاموشی چھا گئی۔ وہ جسے عالمی لیڈر بنانے کی کوشش کی گئی وہ چند گھنٹوں میں ایک بزدل، سہما ہوا، بدحواس کردار بن کر سامنے آیا۔اب اسے نہ اپنی حکومت سنبھالنے کی سمجھ آ رہی ہے نہ بھارتی عوام کا سامنا کرنے کی ہمت۔ گودی میڈیا نے بھی پہلی بار تھوڑی سی سچائی دکھائی اور بھارتی سوشل میڈیا پر مودی کے خلاف غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف سوال اٹھنے لگے: ہمارے ٹیکس کا پیسہ کہاں گیا؟ رفال کہاں ہے؟، ہماری فوج کہاں ہے؟مودی کی عقل کہاں ہے؟ اب صورتحال یہ ہے کہ مودی کے گھر کے باہر بھارتی عوام سراپااحتجاج ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری،اقلیت دشمنی اوراب جنگی شکست نے مودی کو عوام کی نظرمیں بےنقاب کردیا ہے۔ لوگ نعرے لگا رہے ہیں چوکیدار چور ہے، ہمیں گولی نہیں روٹی دو، پاکستان کو چھوڑو ، پہلے بھارت سنبھالو۔
ایک ایسا شخص جو اپنی عوام کو دھوکہ دے رہا ہو جو جھوٹے وعدوں، جھوٹی بہادری اور میڈیا کی مصنوعی حمایت پر اقتدار میں ہو وہ دوسروں کو دھمکیاں دے کر خود کو بچا نہیں سکتا۔ مودی کو چاہیے کہ پہلے اپنی عوام کے سوالات کے جواب دے، پھر پاکستان جیسی بہادر اور غیرت مند قوم کو گولی کی دھمکی دینے کی جسارت کرے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو لوگ نفرت، تکبر اور ظلم کی بنیاد پر حکومت کرتے ہیں ان کا انجام ذلت، رسوائی اور عبرت ہوتا ہے۔ مودی بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔ اس کا غرور اس کی زبان اس کا زہر سب اب بے اثر ہو چکا ہے۔ دنیا کو اس کے اصل چہرے کا ادراک ہو چکا ہے، اور بھارت کے اندر بھی اس کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔ممکن ہے وہ دن دور نہ ہو جب مودی کی سیاست کا تابوت اٹھے اور دنیا اس پر لعنت بھیجے۔ جس شخص نے گولی کی دھمکیاں دے کر سیاست کی اسے اسی گولی کا سامنا ہو گا۔ اس کی موت بھی ایک سبق ہو گی ظلم و تکبر کے پجاریوں کے لیے۔پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے لیکن جب دشمن بار بار سرحد پار کرنے کی کوشش کرے تو خاموشی جواب نہیں بلکہ تیاری کا اعلان ہوتی ہے۔ ہماری افواج، ہماری قوم اور ہماری قیادت ہر ممکن صورت میں اپنے دفاع کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ دشمن کو اس کی زبان میں جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔
دنیا کی تاریخ میں بعض کردار ایسے نمودار ہوتے ہیں جو اقتدار کے نشے، فرقہ وارانہ نفرت، اور تعصب کے زہر میں اس قدر لت پت ہوتے ہیں کہ وہ اپنے گرد ایک فریب کا حصار بن لیتے ہیں۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک ایسا ہی خبیث، سفاک اور مکار کردار ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے بلکہ اس کی پوری سیاست ہی ہندوتوا کے زہریلے نظریے مسلمانوں سے دشمنی اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر استوار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گولی کی مودی کی کے خلاف
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز