بھارت کی پراکسی جنگ ڈھکی چھپی نہیں رہی، مداخلت کے ثبوت موجود ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت کی پراکسی جنگ اب ڈھکی چھپی نہیں رہی. ہمارے پاس بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں. دشمن کے عزائم کو ہر صورت ناکام بنائیں گے، جو دشمن ہماری خودمختاری چیلنج کرےگا،اسے منہ توڑ جواب دینگے۔ وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوئٹہ میں عظیم الشان جرگے سے خطاب کیا، یہ جرگہ بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر قبائلی قیادت سے مشاورت کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہاکہ بھارت کی پراکسی جنگ اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، ہمارے پاس بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں، دشمن کے عزائم کو ہر صورت ناکام بنائیں گے، جو دشمن ہماری خودمختاری چیلنج کرےگا،اسے منہ توڑ جواب دیں گے۔آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج ہر خطرے سے نمٹنےکےلیےمکمل تیار ہے.
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد بلوچستان کے امن کی تباہی اور ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کے درپے ہیں، فتنہ الہند جیسے دہشت گرد گروہ کی مقامی حمایت کی کوششوں کو روکنا ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف نے قبائلی عمائدین کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر رابطے اور شمولیت ضروری ہے تاکہ دہشتگردوں کوحمایت نہ ملے، دیرپاامن کے لیے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی کامیابی ناگزیر ہے، حکومت، افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام دہشت گردی کیخلاف متحد ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ امن دشمن عناصر کو کوئی جگہ نہیں دی جائے گی. وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مددگاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی. اس موقع پر قبائلی عمائدین نے حکومت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔