سمبڑیال ضمنی الیکشن، پی ٹی آئی کا دھاندلی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
شیخ وقاص اکرم—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف نے سمبڑیال کے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا دیا۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے لیے کل رات سے ہی آر او آفس کے باہر کنٹینرز کی دیواریں بنا دی گئی تھیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ احتجاجی سیاست دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے پارٹی نے لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سمبڑیال میں ہی پی ٹی آئی کے ورکرز نکلے اور بڑا جلسہ کیا، سمبڑیال میں ہر جگہ پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے نمائندوں کو نکالا گیا، پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹوں کو مارا گیا اور تشدد کیا گیا، پولنگ اسٹیشن میں ن لیگ والے ہیں، ہمارےایجنٹس کو اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔
وقاص اکرم نے کہا کہ پولنگ اسٹیشن 10 میں جب پی ٹی آئی کے لوگ پہنچے تو پولنگ ایجنٹ نےاسٹیشن ہی بند کر دیا، چیف الیکشن کمشنر مدت مکمل ہونے کے باوجود بیٹھے ہیں تو کیا کر رہے ہیں؟ جو ہیلپ لائنز ان لوگوں نے بنائی ہیں وہ کل سے مصروف رکھی گئی ہیں، صبح سے کسی بھی اسٹیشن پر کوئی چیک اینڈ بیلنس پالیسی نظر نہیں آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے وقاص اکرم
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔