بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایات کی روشنی میں ملک بھر میں اتحاد امت، عزاءداری سید الشہداء کے تحفظ، زائرین کی مسائل کے حل سمیت دینی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا اور اس ضمن میں کرم پارا چنار میں جنگ سے متاثرہ عوام کی قائد ملت کیجانب سے خدمات و فرقہ واریت کے خلتمے کیلئے موثر اقدامات، گلگت بلتستان میں کامیاب عوامی تحرک، عزاداری پر ایف آئی آرز کے خاتمے کیلئے عملی کاوشوں اور دیگر مسائل کے حل کیلئے سیاسی و مذہبی جدوجہد کو بیان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی سربراہی میں ایران کے 8 روزے دور پر آئے ہوئے وفد نے دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان کی جانب سے منعقدہ عزم علماء و تنظیمی کنونشن میں شرکت کی۔ وفد میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، سد اخلاق اختر زیدی، مولانا فیاض حسین مطہری، مولانا ڈاکٹر محمد میثمی، سہیل رضا، سید رفعت عباس زیدی اور رفیق مہدی شامل تھے۔ دفتر قائد قم کے نمائندہ علامہ بشارت حسین زاہدی نے دفتر قائد کے عہدیداروں و علماء کرام کے ہمراہ وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ کنونشن میں سینکڑؤں علماء و طلاب نے شرکت کی۔ اس موقع پر تنظیمی کنونش سے دفتر قائد کے نمائندہ بشارت حسین زاہدی نے خطاب کرتے ہوئے سپاسنامہ پیش کیا اور دفتر قائد کی فعالیت کا ذکر کرتے ہوئے ان رفقاء، اراکین نظارت و مجلس عاملہ کی جانب سے طلاب اور زائرین کے لیے جاری خدمات کا ذکر کیا۔

بعد ازاں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ نے خطاب کرتے ہوئے قیام پاکستان کے بعد سے تشیع کے تحرک اور تسلسل کے ساتھ پاکستان میں اسلامی اقدار کے احیاء کے لیے کاوشوں اور کامیابیوں کے ذیل میں کی گئی خدمات کا ذکر کیا اور 60 کی دہائی میں قائد اول سید محمد دہلوی اعلی اللہ مقامہ کی شیعہ مطالبات کمیٹی کی خدمات، 80 کی دہائی میں قائد علامہ مفتی جعفر حسین اعلیٰ اللہ مقامہ کی تشیع کے اسلامی دائرے میں تشخص اور روشن چہرے کو واضح کرنے کے لیے کی گئی خدمات جبکہ بعدازاں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی اعلیٰ اللہ مقامہ کی پاکستان میں اہل اسلام میں اتحاد و وحدت کے لیے کی گئی خدمات اور ان کے تسلسل میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی دامت برکاتہ کی کاوشوں سے اتحاد امت کے پلیٹ فارموں کا قیام اور بانئ اتحاد امت مسلمہ کے طور پر کی گئی کاوشوں کے تحت تشیع کو عزت وقار میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے وطن عزیر پاکستان میں تشیع کو اسلامی دائرے کے وسط میں قرار دیا۔

بعد ازاں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی دامت برکاتہ کی ہدایات کی روشنی میں ملک بھر میں اتحاد امت، عزاءداری سید الشہداء کے تحفظ، زائرین کی مسائل کے حل سمیت دینی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا اور اس ضمن میں کرم پارا چنار میں جنگ سے متاثرہ عوام کی قائد ملت کی جانب سے خدمات و فرقہ واریت کے خلتمے کے لیے موثر اقدامات، گلگت بلتستان میں کامیاب عوامی تحرک، عزاداری پر ایف آئی آرز کے خاتمے کے لیے عملی کاوشوں اور دیگر مسائل کے حل کے لیے سیاسی و مذہبی جدوجہد کو بیان کیا۔ انہوں نے پاک ایران تعلقات کو ہمسایہ و بردرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تہذیب و ثقافت اور مذہب کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، جنہیں مزید بہتر بنانے کے لیے علماء کرام اور ایران میں پڑھنے والے طلاب کو مزید کاوشیں کرنی ہوں گی، تاکہ دونوں اسلامی ممالک کے دوستی کے رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنا سکیں۔ تنظیمی کنونشن کے آغاز میں تلاوت کلام پاک کے بعد حاضرین نے دونوں ممالک پاکستان اور ایران کے قومی ترانوں کا کھڑے ہوکر استقبال کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری قائد ملت جعفریہ پاکستان خطاب کرتے ہوئے مسائل کے حل دفتر قائد اتحاد امت علامہ سید خدمات کا کیا اور ذکر کیا کی گئی کا ذکر کے لیے

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار