Express News:
2026-06-03@04:23:51 GMT
کراچی، گھگھر پھاٹک، لوٹ مار پر شہری کی مزاحمت، دو ڈاکوؤں سمیت 4 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے گھگھر پھاٹک پر ڈاکوؤں نے شہریوں سے لوٹ مار کی کوشش کی، جس کے دوران ایک شہری کی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اس پر دھاوا بول دیا۔
شہری نے ایک ڈاکو کو قابو کر لیا، جبکہ واردات کا منظر دیکھ کر مقامی افراد بھی موقع پر پہنچ گئے اور دونوں ڈاکوؤں پر تشدد شروع کر دیا۔
مقامی پولیس کے مطابق، 28 سالہ رحمان اور 32 سالہ علی رضا نامی ڈاکو زخمی حالت میں پکڑے گئے، جبکہ ان سے اسلحہ، خنجر/چھری اور ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی۔
ڈاکوؤں کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کے ساتھ مار پیٹ کے دوران دو شہری بھی زخمی ہوئے ہیں، جن میں 12 سالہ سیفی اللہ اور 25 سالہ جنید خان شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔