بلوچستان میں گرمی کی شدت برقرار، درجہ حرارت 49 ڈگری تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جب کہ درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
صوبے کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کا راج ہے اور آئندہ چند روز کے دوران موسم مزید گرم اور خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں موسم خاص طور پر شدید گرم رہنے کا امکان ہے جب کہ بعض علاقوں میں تیز اور گرد آلود ہوائیں بھی چلنے کی بھی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے بیشتر شہروں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی میں ریکارڈ کیا گیا جو 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جبکہ تربت میں 47، نوکنڈی میں 38، اور گوادر میں 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
دیگر شہروں میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہی۔ کوئٹہ اور ژوب میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، قلات میں درجہ حرارت 28، زیارت میں 25، چمن میں 33 اور جیوانی میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور گرمی سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اپنائیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال رواں ہفتے کے دوران برقرار رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔