بنگلا دیش: کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹا دی گئی، نئے نوٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
بنگلا دیش نے کرنسی نوٹوں کا نیا ڈیزائن متعارف کرایا ہے جس میں ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی تصویر کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نئے نوٹوں پر قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات کی تصاویر کو ترجیح دی گئی ہے۔
بنگلا دیش بینک نے اتوار کو 6 نئے ڈیزائن شدہ کرنسی نوٹوں کی تصاویر جاری کیں، جن میں 500، 200، 100، 10، 5 اور 2 ٹکہ مالیت کے نوٹ شامل ہیں۔ ان نوٹوں کا اجرا ملک کے تاریخی اور آثار قدیمہ کے ورثے کو اجاگر کرنے والے سلسلے ’تاریخی و آثارِ قدیمہ کی عکاسی‘ کے تحت کیا جا رہا ہے۔
مرکزی بینک نے بتایا ہے کہ یہ نیا سلسلہ تمام مالیت کے نوٹوں (1000، 500، 200، 100، 50، 20، 10، 5، 2 ٹکہ) پر محیط ہو گا۔ 1000، 50 اور 20 ٹکہ کے نوٹ پہلے ہی گردش میں آ چکے ہیں، جبکہ باقی نوٹ مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ تمام پرانے نوٹ اور سکے بدستور قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کے سوگ والی عام تعطیل ختم
مرکزی بینک نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ ہر نئے نوٹ کی اجرا کی تاریخ اور سیکیورٹی فیچرز سے متعلق معلومات باضابطہ پریس ریلیز کے ذریعے دی جائیں گی۔ یہ اقدام ملک کی تاریخ، ثقافت اور ورثے کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کے حفاظتی فیچرز متعارف کرانے کی ایک کوشش بھی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو بنگلا دیش میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران شدید پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ان واقعات کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا اور ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئیں۔ اس وقت بنگلا دیش کی حکومت نگران انتظامیہ کے سپرد ہے، جو قریباً 17 کروڑ آبادی پر مشتمل ملک کو سنبھالے ہوئے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش بینک حسینہ واجد کرنسی نوٹ مجیب الرحمٰن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش بینک حسینہ واجد کرنسی نوٹ مجیب الرحم ن بنگلا دیش کرنسی نوٹ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔