Daily Sub News:
2026-07-24@10:49:31 GMT

مُودی کا ”نیو نارمل”  اور  راکھ ہوتا سیندور!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

مُودی کا ”نیو نارمل”  اور  راکھ ہوتا سیندور!

مُودی کا ”نیو نارمل”  اور  راکھ ہوتا سیندور! WhatsAppFacebookTwitter 0 2 June, 2025 سب نیوز

تحریر: عرفان صدیقی

                ”آپریشن سیندور” کی لاش،  دَس مئی سے بے گوروکفن پڑی ہے۔ اَب  تو اُس سے تعّفن بھی اُٹھنے لگا ہے۔ کھال ہڈّیاں چھوڑ رہی ہے۔ مُودی، بہار کے انتخابات جیتنے کے لئے گلی گلی محلّے محلّے جھوٹ کے سرکس سجا  رہا ہے۔ آپریشن سیندور کو  اپنی فتح قرار دیتے ہوئے جَنتاَ کو گمراہ کر  رہا ہے  اور  اُس کی مسلح افواج کھُلے عام اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے مُودی کی راہ کھوٹی کر  رہی ہیں۔

                مُودی کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ چار  روزہ جنگ کے نتیجے  میں ایک ”نیونارمل”  یا ”معمول ِنو”  تو جنم لے چکا ہے۔ دوسرا دعویٰ یہ کہ ”آپریشن سیندور” بدستور جاری ہے۔ مُودی کے دونوں دعوے درست مان لئے جائیں تو بھی اُن کے معنی ومفہوم کو زمینی حقائق کی آنکھ سے دیکھنا ہوگا۔ دَرودِیوار پر لکھا سچ یہ ہے کہ اپنی پسند کا وقت،  محاذ  اور طریقِ جنگ چننے کے باوجود بھارت یہ جنگ ہار گیا۔ بُری طرح ہار گیا۔ ساری دنیا نے اس ہار پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔ ابتدائی مرحلے میں بھرپور تحمل کے ساتھ پاکستان نے خود کو  اپنے دفاع تک محدود  رکھا۔ اور جب ”بنیانُ المرصوص” کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دی گئیں تو صرف تین گھنٹے پینتیس منٹ میں مُودی کا سرِ پُرغرور، رزقِ خاک ہوگیا۔ اُس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ بارگاۂِ قِصرِ سفید پر دستک دیتا  اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حضور جنگ بندی کی عرضی گذارتا۔

                بقول مُودی، اگر ”آپریشن سیندور” جاری ہے، تو صرف اس قدر ہے کہ سوالات اُٹھ رہے ہیں اور میڈیا کا آتشکدہ دہک رہا ہے۔ فنِّ دروغ گوئی میں کمال مہارت کے باوجود مُودی کے لئے حقائق چھپانا مشکل ہو رہا ہے۔ پاکستان نے جنگ کے پہلے مرحلے میں ہی واضح اعلان کردیا تھا کہ  رافیل سمیت بھارت کے پانچ طیارے تباہ کردیے گئے ہیں۔ بھارت نے ایک بار بھی اس دعوے کی واضح تردید نہیں کی  البتہ حیلے بہانے سے ”چُنری” پہ لگا یہ داغ چھپانے کی کوشش کرتا رہا۔ 9 مئی کو جب بھارتی فضائیہ کے ڈی۔جی۔آپریشنز اے۔کے بھارتی سے طیاروں کی تباہی کے بارے میں سوال کیاگیا تو اُس نے الفاظ چباتے ہوئے کہا __ ”نقصانات لڑائی کا حصّہ ہوتے ہیں۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا۔ ایسا کرنے سے فریقِ مخالف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔” عالمی میڈیا، آزاد اور غیرجانبدار ذرائع سے پاکستانی دعوے کی تصدیق کرتا رہا۔ پھر مُودی کی جماعت بی۔جے۔پی کے سینئر راہنما اور سابق وزیر قانون سبرامینین سوامی نے لگی لپٹی رکھے بغیر بتایا کہ ”جنگ میں پاکستان نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں۔ مُودی کو چاہیے کہ وہ قوم کو سچائی سے آگاہ کریں۔” آخری اور حتمی اعتراف، چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کی طرف سے آیا۔ ‘  بُلوم برگ’ سے انٹرویو کے دوران، نشانہ بننے والے بھارتی طیاروں کی تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے انیل چوہان نے یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ ”طیارے گرنا زیادہ اہم نہیں، اہم یہ ہے کہ طیارے کیوں گرے؟”  کیا بیانیہ ہے؟

                مودی کے ”نیو نارمل”  یا  ‘معمولِ نو’  کا ایک پہلو یہ ہے کہ بات چھ طیاروں کے زمین بوس ہونے تک محدود  نہیں رہی ۔ اس نے دنیا بھر کے دفاعی اور جنگی حکمت کاروں کے چوپالوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ اس سوال کی گونج بڑھتی جا رہی ہے کہ کیا چین نے، سائبر اور  اے۔آئی (مصنوعی ذہانت) کے بل پر نئی اختراعات کے ذریعے اپنے طیاروں کی ضرب اور دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو مفلوج کردینے میں مغربی ٹیکنالوجی پر برتری حاصل کرلی ہے؟  اس سوال میں خطے ہی نہیں،  پوری دنیا کے نظامِ دفاع وجنگ میں، نئے مضمرات کے امکانات انگڑائی لے  رہے ہیں۔

                مُودی کے  ‘نیونارمل’ کا دوسرا  اہم پہلو یہ ہے کہ  وہ اس چار  روزہ جنگ میں شدید نوعیت کی عالمی تنہائی کا شکار نظر آیا۔ اُس کے پرانے اتحادیوں  یا  دوستوں سمیت،  کوئی ایک ملک بھی سینہ تان کر اُس کے پہلو بہ پہلو کھڑا  دکھائی نہیں دیا۔ پاکستان کے دوست ڈٹ کر  اس کے ساتھ کھڑے  رہے۔ عسکری میدان کے بعد سفارتی میدان میں یہ شکست،  بھارت میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ جنگ بندی کے بعد مُودی کو نہ پارلیمنٹ کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہے نہ دنیا کو منہ دکھانے کا یارا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ابھی ابھی ایران، ترکیہ، آذربائیجان اور تاجکستان کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ وہ جہاں بھی گئے،  پاکستان کی فتحِ مبین کا بانکپن میزبانوں کے چہروں پر بھی شفق بکھیرتا نظر آیا۔ اِس ماہ  وہ سعودی عرب  اور چین کے دوروں پر جا  رہے ہیں۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم  اور  وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کا نہایت اہم دورہ کیا جہاں افغانستان کے وزیر خارجہ کو  بھی خصوصی دعوت پر بلایا گیا۔ چین کے توسط سے پاک افغان تعلقات میں جمود  ٹوٹنے لگا ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے ناظم الامور کا درجہ، سفیر تک بڑھا  دیا ہے۔ مستقبل قریب میں سفارتی رابطوں میں تیزی آنے والی ہے۔

                ‘معمولِ نو’ کا تیسرا  زوایہ،  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نپاتُلا اور متوازن روّیہ ہے جو بھارت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت کو اس جنگ کے دوران امریکی حمایت کا  کامل یقین تھا۔ ایسا نہ ہوا۔ ٹرمپ کوئی ایک درجن بار بطور فخر  اپنے ”مدبرانہ کردار” کا ذکر کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ  ”میں نے دونوں ممالک کے مابین ایٹمی جنگ ٹالی۔”  اس تاثر کی نفی بھی نہیں ہو پا  رہی کہ ”بنیان المرصوص” کے برق رفتار  ردّعمل کے بعدبھارت کے ہاتھ پائوں پھول گئے  اور اس نے امریکہ سے جنگ بندی کی التماس کی۔بھارت کو یہ بات بھی ہضم نہیں ہو  رہی کہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں مسئلہ کشمیر کے حل کا ذکر کیوں کیا؟ تجارتی اور ٹیرف معاملات پر پاک امریکہ مذاکرات کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔

                ‘معمولِ نو’ نے بھارت میں ایک اور بڑے قضیے کو جنم دیا ہے۔ اس قضیے کا نام ہے بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت میں بڑھتی ہوئی خلیج  اور  متضاد بیانیے۔ دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان پر ہیں۔ دونوں راکھ بن جانے والا سیندور،  ایک دوسرے پہ پھینک رہے ہیں۔ مُودی، بہار کے انتخابات کے پیشِ نظر ڈگر ڈگر  ‘فتح’ کی ڈگڈگی بجا رہا ہے  اور اس کی اپنی مسلح افواج کے اعلی عہدیدار، پانچ طیارے گرائے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے، بھارتی شکست کا نوحہ پڑ ھ رہے ہیں۔

                ”معمولِ نو” کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ  اگر ‘آپریشن سیندور’ جاری  ہے  تو  اَب  اِس کا رُخ پاکستان کی طرف نہیں، خود  مُودی کی طرف مُڑ گیا ہے۔ جوں جوں،  مُودی اور  اُسکے دروغ گو میڈیا کی کہانیوں کا پول کھُل رہا ہے،  توں توں جَنتاَ کا اشتعال بڑھ رہا ہے۔ گیارہ برس بعد مُودی کے چہرے کے حقیقی خدوخال نمایاں ہو رہے ہیں۔ وہ کھلی شکست سے فتح کشید کرنے کے جتن کر  رہا ہے اور  اُس کی اپنی سپاہ، اُس کے بیانیے کی دھجّیاں اُڑا  رہی ہے۔ جنرل انیل چوہان کا یہ انکشاف کوئی عام سی بات نہیں کہ دو  دِن تک بھارتی فضائیہ معطل ومفلوج ہوکر رہ گئی۔ اُدھر کانگرس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت اور مسلح افواج دونوں کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ بلاشبہ شکست ہمیشہ بانجھ اور لاوارث رہتی ہے لیکن بھارتی فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان شرمناک ہزیمت کی ذمہ داری ایک دوسرے کے سَر تھوپنے کی جنگ وہ ”معمولِ نو” ہے جو کسی بھی حادثے کو جنم دے سکتا ہے۔

                یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین

                پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران میں انسانی اسمگلرز کے شکنجے سے 10 پاکستانی شہری بازیاب اٹھائیس مئی قوم کی خودمختاری کا دن سائبر سکیورٹی اور اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے طریقے ارتھنگ: فطرت کے لمس میں شفا جوہری بازدارندگی اور قومی وقار،28 مئی کی میراث سات مئی : جنوبی ایشیا کے لیے سچائی کی گھڑی پی۔ٹی۔آئی  اور ‘معمولِ نو ‘  (NEW NORMAL) TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: م ودی کا

پڑھیں:

ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں

ایشین گیمز 2026 کے مردوں اور خواتین کے کرکٹ مقابلوں کے ڈراز اور گروپس کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

مردوں کے ایونٹ میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا کو عالمی رینکنگ کی بنیاد پر براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ دی گئی ہے جبکہ افغانستان، ہانگ کانگ، جاپان، ملائیشیا، نیپال اور عمان ابتدائی مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

مردوں کے ابتدائی راؤنڈ میں افغانستان، جاپان اور نیپال کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جبکہ ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان گروپ بی کا حصہ ہوں گے۔

دونوں گروپس سے ٹاپ دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ کر پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا کا سامنا کریں گی۔

Bangladesh, India, Pakistan and Sri Lanka have gained direct entry into the knockouts of the Asian Games 2026 men's competition https://t.co/WCS9T5YG9C pic.twitter.com/uP7s6xroNs

— Cricinfo (@cricinfo) July 24, 2026

مردوں کے مقابلے 24 ستمبر سے یکم اکتوبر تک جاپان کے شہر ناگویا میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔

خواتین کے ایونٹ کا آغاز 17 ستمبر سے ہوگا جہاں کوارٹر فائنلز میں بھارت کا مقابلہ جاپان، بنگلادیش کا چین، سری لنکا کا ملائیشیا جبکہ پاکستان کا سامنا تھائی لینڈ سے ہوگا۔

https://www.facebook.com/AsianGamesOCA/posts/cricket-action-is-going-to-heat-up-at-the-20th-asian-games-aichi-nagoya-2026-her/1469188031908924/

خواتین کے مقابلے 22 ستمبر تک جاری رہیں گے۔

واضح رہے کہ 2023 کے ایشین گیمز میں بھارت نے مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • ایشین گیمز 2026 :کرکٹ مقابلوں کے شیڈول اور گروپس کا اعلان
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا