پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن کے تعاون سے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی کامیاب فنڈ ریزنگ تقریب،
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 2 جون 2025ء)پیرس میں پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی فنڈ ریزنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معزز افراد نے شرکت کی اور دل کھول کر عطیات دیے۔ یہ تقریب خدمتِ انسانیت کے بے لوث جذبے کی روشن مثال تھی، جس نے انسانی فلاح و بہبود کے کاموں میں اجتماعی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
تقریب میں شرکت کرنے والے معزز ڈونرز میں بیلجیم سے جناب احسان اکرم صاحب کی قیادت میں زاہد وڑائچ ، اویس اکرم ، امتیاز سویہ نے شرکت کی فرانس سے چیرمین بزنس فورم سردار ظہور (شمع گروپ )، جناب مشتاق جدون، چوہدری نعیم، مدثر نواز تارڑ، تصور حسین تارڑ، غلام شبیر تارڑ، اعظم گوندل ،حمزہ تاج ،ظہیر سکندر وڑائچ، طارق عزیز گجر، محمد منشا ، شہباز تارڑ (چک بساوا)، لالہ دیپ، اور بلال مرڑ شامل تھے۔(جاری ہے)
ان تمام افراد نے نہ صرف اپنی مالی معاونت فراہم کی بلکہ دوسروں کے لیے ایک مثال بھی قائم کی۔ پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن کے چیرمین ناصرعباس تارڑ اور بانی انڈس ڈاکٹر عبدالباری نے تقریب کے منظم کامیاب انعقادپر نبیلہ آرزو اور محمد جواد خان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی فلاحی خدمات کو مزید موثر بنانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے گا۔ پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن صحت، تعلیم اور معاشرتی بہبود کے لیے مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ دیگر فلاحی تنظیموں، جیسے اخوت، انڈس ہیلتھ نیٹ ورک، پاکستان سویٹ ہوم، الخدمت فاؤنڈیشن، اور مسلم ہینڈز کے ساتھ بھی بھرپور تعاون کرتا ہے۔ ان اداروں کی پروموشن اور مدد میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ڈونرز کو بھی ان کاموں میں شامل کرتا ہے۔ پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن کو کمیونٹی ڈویلپمنٹ پاکستان میں سب سے زیادہ اوورسیز تنظیمیں بنانے میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں بڑے بڑے ادارے ایک دوسرے سے تعاون میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں، وہاں پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن کا ماڈل دوسروں کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ تمام فلاحی ادارے ایک دوسرے کے تجربات اور وسائل کو یکجا کریں اور مل کر کام کریں۔ اگر ہر ادارہ پاکستان پبلک ہیلپ فاؤنڈیشن کی طرح تعاون کا مظاہرہ کرے، تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام ڈونرز، منتظمین، اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی کاوشوں کو قبول کرے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔