آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں جاری، نان فائلرز کے لیے بُری خبر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کرےگی، بجٹ سے قبل نان فائلرز کے لیے بری خبر سامنے آگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نان فائلرز پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں وفاقی بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کا امکان، 2 دن کی توسیع پر غور
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے مختلف ٹیکس تجاویز پر کام کررہا ہے۔ اس دوران یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ نان فائلرز کے یومیہ 50 ہزار سے زیادہ رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے، جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.
میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ میں 850 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے، مقامی تیار کردہ گاڑیوں پر جی ایس ٹی کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں بینک ڈیپازٹس، بچت اسکیموں، کیپیٹل گین اور منافع پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے جب کہ سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں بجٹ 26-2025: خواتین کن چیزوں پر ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ کررہی ہیں؟
واضح رہے کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں کمی کی نوید سنائی تھی، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہو سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجٹ تیاری تنخواہ دار طبقہ ٹیکس میں اضافہ نان فائلرز وفاقی بجٹ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجٹ تیاری تنخواہ دار طبقہ ٹیکس میں اضافہ نان فائلرز وفاقی بجٹ وی نیوز ا ئندہ مالی سال نان فائلرز
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔