ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو ایکو سسٹم کی نگرانی کیلئے تکنیکی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کرپٹو کونسل نے ملک میں ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو ایکو سسٹم کی نگرانی اور ریگولیشن و مجوزہ قوانین کا جائزہ لینے کیلئے تکنیکی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ پیر کو وزارت خزانہ میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ پاکستان کرپٹو کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے بلاک چین و کرپٹو اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال بن ثاقب نے آن لائن شرکت کی۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بھی اجلاس میں آن لائن شرکت کی جبکہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین، قانون و انصاف ڈویڑن کے سیکرٹری اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکرٹری نے اجلاس میں ذاتی حیثیت میں شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان میں ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں کے لیے مجوزہ ریگولیٹری فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد بین الاقوامی معیارات اور جدید ٹیکنالوجی کے رجحانات سے ہم آہنگ ہونا ہے۔
شرکاء نے ملک میں ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو ایکو سسٹم کی نگرانی اور ریگولیشن کے لیے ایک خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے مختلف پہلووٴں پر بھی غور کیا۔ کونسل کے ارکان نے ایک محفوظ، شفاف اور اختراع کی حوصلہ افزائی کرنے والے ریگولیٹری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے قیمتی تجاویز پیش کیں تاکہ بلاک چین کو ذمہ داری کے ساتھ اپنایا جا سکے، سرمایہ کاروں کا تحفظ کیا جاسکے اور مالی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
شرکا نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایک جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کی تشکیل کے لیے پْرعزم ہے، جو جدت کی حمایت کے ساتھ مالیاتی استحکام اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو بھی یقینی بنائے۔
اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، قانون ڈویژن اور آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویژن کے نمائندوں پر مشتمل ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مجوزہ قوانین کا جائزہ لے گی اور ایک مضبوط فریم ورک اور گورننس ڈھانچے کی تجاویز پیش کرے گی، جنہیں پاکستان کرپٹو کونسل کے آئندہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کرپٹو کونسل اجلاس میں کونسل کے کے لیے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔