ایرانی و جرمن وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
جرمنی کے نئے وزیر خارجہ کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی امید کا اظہار کرتے ہوئے تین یورپی ممالک و یورپی یونین کیساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر ایران کی آمادگی کا اعلان کیا ہے اسلام ٹائمز۔ ایرانی و جرمن وزرائے خارجہ نے آج ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ ایران و یورپ کے درمیان گفتگو پر بھی بات چیت ہوئی۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس دوران کہ جو سید عباس عراقچی و جوہان ویڈفول (Johann Wadephul) کے درمیان پہلی گفتگو تھی، دوطرفہ تعلقات و باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں موجود ایرانی وزیر خارجہ نے ایران و جرمنی کے باہمی تعلقات میں بہتری کی امید کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں طے پانے والے معاہدوں کی جانب بھی اشارہ اور اس حوالے سے موثر اقدامات اٹھانے کو ایران کی مکمل تیاری کا اعلان کیا۔ مزید برآں پابندیوں کے خاتمے اور جوہری مسئلے پر ایران و امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے سید عباس عراقچی نے جوہری مسئلے میں یورپ کے تعمیری کردار کی اہمیت پر زور بھی دیا اور یورپی ممالک و یورپی یونین کے ساتھ گفتگو کو جاری رکھنے پر ایران کی آمادگی کا اظہار کیا۔
ادھر جرمن وزیر خارجہ نے بھی اس رابطے پر خوشی اظہار کیا اور ایران کے ساتھ دو طرفہ و کثیرالجہتی مذاکرات جاری رکھنے و اعتماد سازی پر مبنی مزید اقدامات کے لئے جرمنی کی تیاری پر زور دیا۔ اس دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی وزارت ہائے خارجہ کے درمیان سیاسی مذاکرات کی منصوبہ بندی بھی کی جائے گی جس پر مکمل عملدرآمد کا مقصد موجود مسائل کا حل ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔