امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کرسکتے ہیں، جس سے دنیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی تنازع میں پیشرفت کا امکان ہے۔

سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان فون کال ہو گی، تو معاملات سلجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کچھ ایسی اشیا روک کر بیٹھا ہے جنہیں حالیہ معاہدے کے تحت برآمد کیا جانا تھا۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان اشیا میں نایاب دھاتیں بھی شامل ہیں، جو کاریں اور چِپ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ممکن ہے یہ چینی نظام کی کسی خرابی کا نتیجہ ہو، یا پھر جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہو۔ یہ بات صدر ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کے بعد ہی واضح ہوگی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات جن کی قیادت خود بیسنٹ نے کی، کے بعد امریکا اور چین نے ایک 90 روزہ عارضی تجارتی سیز فائر پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت ایک دوسرے پر عائد بھاری محصولات کو وقتی طور پر کم کیا گیا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے بیجنگ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ چین نے نایاب دھاتوں کی برآمد کے لائسنسز کی منظوری میں دانستہ تاخیر کی ہے۔ امریکی حکام نے اس خدشے کی تصدیق کی ہے۔

اس تناظر میں امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹ نک نے اے بی سی کے پروگرام ’دس ویک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اس معاہدے کو سست روی سے لاگو کر رہا ہے، اور ہم نے بھی کچھ اقدامات کیے ہیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ دوسری طرف کیسا محسوس ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد امریکا نے قریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر سخت محصولات عائد کیے، جن میں چین سرفہرست رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی جوابی محصولات کی شرح 3 ہندسوں تک جا پہنچی تھی، مگر رواں ماہ کے آغاز میں کشیدگی میں کمی آئی جب واشنگٹن نے چینی درآمدات پر اضافی محصولات 145 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کر دیے، جبکہ چین نے بھی جوابی محصولات کو 125 فیصد سے گھٹا کر 10 فیصد کردیا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ کال جلد متوقع ہے، اور اس سے بات چیت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کہ چین

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم