اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2025ء) ترکی کے شہر استنبول سے موصولہ خبر رساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق آج دو مئی بروز پیر کو ہونے والے مذاکرات میں روس اور یوکرین نے مزید قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔ استنبول میں ہونے والی بات چیت میں روسی مذاکرات کاروں نے ایک تفصیلی میمورنڈم اپنے یوکرینی ہم منصبوں کے حوالے کیا، جس میں مکمل جنگ بندی کے لیے ماسکو کی شرائط کا خاکہ پیش کیا گیا۔

یہ بات کریملن کے معاون اور روسی وفد کی قیادت کرنے والے ولادیمیر میڈنسکی نے بتائی۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مزید یہ بھی کہا ہے کہ روس نے یقینی طور پر دو سے تین دن کی جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔

قبل ازاں کییف کے ایک مذاکرات کار سرگئی کیسلیٹسیا نے دو طرفہ بات چیت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا،''روسی فریق غیر مشروط جنگ بندی کی تحریک کو مسلسل مسترد کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

دریں اثناء یوکرین نے پیر کو ہونے والے ان مذاکرات کو جون کے اواخر سے پہلے منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ استنبول مذاکرات کے دوران فریقین نے اپنے اپنے ''امن روڈ میپ‘‘ کی دستاویز کا تبادلہ کیا۔ اس موقع یوکرینی وزیر دفاع رستم عمیروف نے بات چیت کے بعد کہا، ''ہم روسی فریق کو اس ماہ کے آخر تک 20 اور 30 جون کے درمیان ایک میٹنگ منعقد کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وفود کو یوکرینی اور روسی صدور وولودیمیر زیلینسکی اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان ملاقات پر اتفاق کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ یہ مذاکرات 2022 ء کے موسم بہار کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ ہے اورچیران پیلس کیمپنسکی ہوٹل استنبول میں ہورہے ہیں، جو ایک فائیو اسٹار لگژری امپیریل پیلس ہوٹل ہے۔

روس اور یوکرین کے علاوہ اس میٹنگ میں ترکی کا وفد بھی موجود ہے، جو ثالث کا کردار ادا کررہا ہے۔

مذاکرات ایک نازک وقت میں

روس اور یوکرین کے مابین یہ مذاکرات دراصل گذشتہ شب یوکرین کی جانب سے روسی ائیر بیسز پر کیے جانے والے حملوں کے ایک دن بعد ہور رہے ہیں۔ ترکی میں براہ راست بات چیت کا دوسرا دور یوکرین اور روس دونوں کی جانب سے تیز رفتار حملوں کے درمیان ہوا۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی ایئربیسز پر ڈرون حملوں میں اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو تباہ کر دیا گیا۔

استنبول سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات سے قبل متحارب فریقین نے اپنے مطالبات کا خاکہ پیش کیا، لڑائی کے خاتمے کی تحریری تجاویز پیش کی گئیں ، لیکن روس اور یوکرین کا موقف ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے کے سبب اختلاف برقرار ہیں۔

یوکرین ، جو تین سال سے زائد عرصے سے روس کے ایک مکمل قبضے کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے، امریکی تجاویز پر مبنی مطالبات سامنے لا رہا ہے۔ کییف کا مطالبہ ہے کہ امن کے نقطہ آغاز کے طور پر 30 روزہ جنگ بندی کی بین الاقوامی سطح پرنگرانی کی جائے۔

ترک ذرائع کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کی اور ترک انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار بھی اجلاس میں موجود تھے۔

وفد کے ذرائع کا کہنا تھا کہ یوکرین ''امن کی جانب بڑے قدم‘‘ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ استنبول میں کییف کے وفد کے ایک ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یوکرین استنبول میں روسی حکام کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں امن کی جانب اہم پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ اس زرائع کا کہنا تھا،''یوکرین کا وفد ایک واضح ایجنڈے کے ساتھ استنبول آیا ہے اور امن کی طرف بڑے قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔‘‘ ذریعے نے مزید کہا کہ یوکرین کو اُمید ہے کہ روسی فریق '' اپنا سابقہ ​​الٹی میٹم ایک مرتبہ پھر نہیں دہرائے گا۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روس اور یوکرین استنبول میں کے درمیان بات چیت کی جانب کے ایک پیش کی

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود