جنت مرزا اور علشبہ انجم والدین کے ہمراہ حج کی ادائیگی کیلئے روانہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار اور ڈیجیٹل کریئیٹر جنت مرزا اور علشبہ انجم اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مقدس فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوگئیں۔
جنت مرزا نے اپنے خاندان کے ہمراہ حج کے بابرکت سفر کا آغاز کر دیا ہے جس کی ویڈیوز انہوں نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ شیئر کی ہے۔ جنت مرزا اپنی ہمشیرہ علشبہ انجم اور والدین کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوئیں۔
جنت مرزا کے مداح ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔ انسٹاگرام پر جنت کے 6.
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے جنت اور علشبہ کی پوسٹ پر تنقیدی تبصرے کرتے ہوئے حج روانگی پر ان کے میک اپ اور اسپانسر شپ سے متعلق سوالات کیے۔ جبکہ دیگر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو قبول فرمائے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔