ملیر جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی:
ملیر جیل سے گزشتہ رات قیدیوں کے فرار کا بڑا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 216 قیدی فرار ہو گئے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ کے مطابق ابتدائی گنتی کے بعد فرار قیدیوں کی صحیح تعداد سامنے آ گئی ہے۔
لانڈھی جیل کی بیرکس میں گنتی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق زیادہ تر قیدی سرکل نمبر چار اور پانچ سے فرار ہوئے۔ تاہم دیگر بیرکس سے بھی قیدیوں کے غائب ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ارشد شاہ نے مزید بتایا کہ 80 سے زائد قیدیوں کو ڈسٹرکٹ پولیس نے مختلف مقامات سے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، جبکہ پچاس سے زائد قیدی جیل کی کالونی کی حدود میں ہی جیل کے عملے نے دھر لیے تھے۔
فرار ہونے والے قیدیوں میں اکثریت منشیات کے عادی افراد پر مشتمل ہے۔ جیل انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تیزی سے کارروائیاں کر رہے ہیں، اور سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ کا کہنا ہے کہ تمام فرار قیدیوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔