اگلی سماعت پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا حکم دینگے جو آپ کیلئے سبکی کا باعث بنے گی چیف ایکشن کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) الیکشن کمیشن نے اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز کو بلانے کا اشارہ دے دیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے کیس میں کہا کہ الیکشن کمیشن اگلی سماعت پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا حکم دے گا جو آپ کے لیے سبکی کا باعث بنے گا۔ پنجاب کے سوا تینوں صوبوں نے بلدیاتی الیکشن کرادیا، یہ نہیں ہوسکتا کہ صوبائی حکومت قانون سازی نہ کرے اور 5 سال الیکشن ہی نہ ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر کے استفسار پر وزیربلدیات پنجاب نے کہا کہ قانون سازی کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے، کوشش ہے جلد قانون سازی کرائی جائے۔ اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں حکومتیں بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس میں کہا کہ وفاق اور پنجاب میں (ن) لیگ کی ہی حکومت ہے، وہیں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، اگلی سماعت پر کوئی پیش رفت ہونی چاہیے، آپ سے ٹائم نہیں پوچھیں گے، اب کمیشن ٹائم دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔