’عمران خان ملیر جیل میں ٹرانسفر کروالیتے تو آج آزاد ہوتے‘
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار ہوگئے جن میں سے تقریباً 80 سے زائد مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم 100 سے زائد قیدی تاحال مفرور ہیں۔
واقعے کی خبر پھیلی تو سوشل میڈیا صارفین بھی اس پر تبصرے کیے بنا نہ رہ سکے۔ ایک صارف نے لکھا کہ کراچی میں انہونی ہو گئی، زلزلے کے خوف سے ڈسٹرکٹ جیل ملیر کی دیواریں توڑ کر قیدی فرار ہو گئے۔ کیا آپ نے پہلے کبھی ایسا مذاق سنا ہے؟
کراچی میں انہونی ہو گئی
زلزلے کے خوف سے ڈسٹرکٹ جیل ملیر کی دیواریں توڑ کر قیدی فرار ہو گئے۔
پہلے کبھی ایسا مذاق سنا ہے آپ نے ؟ pic.
— Ahmad Hassan Bobak (@ahmad__bobak) June 3, 2025
ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے کہا کہ کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار جیل انتظامیہ اور پولیس کی ملی بھگت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بھی جیل میں رہ چکے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جیل سے قیدیوں کا اس طرح فرار ہونا ممکن نہیں کیونکہ شام کو ہی قیدیوں کو بیرکس کے اندر کھولیوں میں بند کردیا جاتا ہے، پھر کھولیوں کے باہر بیرکس کے بڑے بڑے آہنی دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔
رہنما ایم اکیو ایم نے مزید کہا کہ جیل کے داخلی مرکزی دروازے ماڑی تک پہنچنا تو ناممکن ہوتا ہے چہ جائیکہ کہ قیدی کھولیوں اور پھر بیرکس سے نکل کر ماڑی پر پہنچ کر ماڑی کا دروازہ توڑ کر پولیس سے اسلحہ چھین کر، انہیں تشدد کا نشانہ بناکر فرار ہوجائیں۔ مصطفیٰ عزیز آبادی نے سوال کیا کہ یہ جیل انتظامیہ اور جیل پولیس کی غفلت ہے یا مہربانی کا نتیجہ ہے؟
کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار جیل انتظامیہ اور پولیس کی ملی بھگت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
جو لوگ بھی جیل میں رہ چکے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جیل سے قیدیوں کا اس طرح فرار ہونا ممکن نہیں کیونکہ شام کو ہی قیدیوں کو بیرکس کے اندر کھولیوں میں بند کردیا جاتا ہے، پھر کھولیوں کے… pic.twitter.com/L1dtro3Xhe
— Mustafa Azizabadi (@azizabadi) June 2, 2025
لطیف شاہ لکھتے ہیں کہ کراچی پولیس کی ملی بھگت سے ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوگئے ہیں۔
کراچی پولیس کی ملی بھگت سے ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوگئے۔۔@BBhuttoZardari pic.twitter.com/bDzYAgUNkR
— Latif Shah (@Latifshahji) June 3, 2025
شفیق احمد ایڈوکیٹ نے پولیس کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر پر قیدیوں کے فرار ہونے کا اعلان کیے جانے پر لکھا کہ ملیر جیل کراچی سے قیدی فرار ہوگئے ہیں اور ان ذہین اہلکاروں کی ذہانت چیک کریں کہ لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرکے واحد نشانی یہ بتا رہے ہیں کہ اُن کے پاؤں میں چپل نہیں ہے تاکہ وہ اعلان سُن کر وہ کسی طرح چپل چوری کرکے اور پہن کر سکون سے نکل جائیں۔
ملیر جیل کراچی سے قیدی فرار ھوگئے ہیں اور ان ذہین اہلکاروں کی ذہانت چیک کریں کہ لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرکے واحد نشانی یہ بتا رہے ہیں کہ اُنکے پاؤں میں چپل نہیں ہے تاکہ وہ اعلان سُن کر وہ کسی طرح چپل چوری کرکے اور پہن کر سکون سے نکل جائیں pic.twitter.com/68XflvCMPZ
— The Shafiq Ahmad Adv (@ShafiqAhmadAdv3) June 3, 2025
ایک ایکس صارف نے بیرسٹر گوہر کی تصویر شیئر کی جس میں وہ عمران خان کے کان میں کچھ کہہ رہے ہیں اور مزاحیہ انداز میں لکھا کہ وہ عمران خان کو کہہ رہے ہیں کہ آپ بھی اپنا ٹرانسفر ملیر جیل میں کروالیتے تو آج آزاد ہوتے۔
آپ بھی اپنا ٹرانسفر ملیر جیل میں کروالیتے تو آج آزاد ہوتے pic.twitter.com/3Q33DxPXgU
— شائن سٹائن (@shine__Stine) June 3, 2025
آئی جی پولیس جاوید عالم کے مطابق جیل حکام معاملے کی تحقیقات کرکے مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیں گے، انہوں نے بتایا کہ ملیر جیل میں کوئی ’ہائی ویلیو‘ ملزم نہیں تھا، نہ ہی کوئی ’سزایافتہ مجرم‘۔ روایتی طور پر یہاں پر کسی سنگین مجرم کو نہیں رکھا جاتا جس کی ہمیں فکر ہو، لیکن جو بھی مفرور ہیں انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قیدی فرار کراچی ملیر جیل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی ملیر جیل جیل سے قیدیوں کا قیدی فرار ہوگئے ملیر جیل میں قیدی فرار ہو جیل سے قیدی ملیر جیل سے قیدیوں کو رہے ہیں ہیں کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔