اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ، جس میں والدہ نے اپنی بیٹی کے قتل کی دلخراش تفصیلات بتائیں۔

تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

والدہ نے بتایا کہ پیر کی شام 5 بجے ملزم ہمارے گھرداخل ہوا اور فائرنگ کی، ثنا پر فائرنگ کرنےکےبعدملزم فرارہوا۔

مقدمے کے متن میں کہنا تھا کہ ثنا کو 2گولیاں لگیں،زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا۔

یاد رہے گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوجوان نے ٹک ٹاکر خاتون کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ تھانہ سنبل کی حدود میں پیش آیا ، ٹک ٹاکر کا تعلق چترال سے ہے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم کی کچھ دیر خاتون سے بات ہوئی اور وہ گھر کے باہر کھڑا رہا جس کے بعد فائرنگ ہوئی۔ ملزم نے مقتولہ کو دو گولیاں ماری اور فرار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق گولیاں لگنے سے خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جس کی لاش کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہے اور ضابطے کی کارروائی کر کے میت کو اہل خانہ کے حوالے کردی ہے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم مقتولہ کا رشتہ دار ہے تاہم جائے وقوعہ سے ابتدائی شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور اطراف میں لگے کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جارہی ہے۔

بھارت کیخلاف 96 گھنٹوں کی جنگ مکمل اپنے وسائل سے لڑی، باہر سے کوئی مدد نہیں لی، جنرل ساحر شمشاد

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا