کراچی میں 3 دنوں میں 18 زلزلے ، نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
گزشتہ اتوار سے منگل تک 3 دنوں کے دورانکراچی کے جنوب مشرقی علاقوں میں مختلف اوقات میں زلزلے کے مجموعی طور پر 18 مرتبہ جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی ماہرین ارضیات کے مطابق کوئی نظیر نہیں ملتی۔
ارلی سونامی وارننگ سیل کراچی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ شدت کا زلزلہ ریکٹر اسکیل پر 3.
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار، ایک ہلاک
ماہرین کے مطابق زلزلے کے 11 جھٹکے ضلع ملیر میں ریکارڈ ہوئے، جبکہ زلزلے کے دیگر جھٹکے کورنگی کے جنوب مغربی حصے اور ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے شمال مشرقی حصے میں محسوس کیے گئے، تاہم ان زلزلوں سے بعض علاقوں میں دیواروں میں دراڑیں پڑنے کے علاوہ کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
کراچی میں زلزلے کے ان جھٹکوں کی ریکارڈ تعداد اپنی جگہ تاہم ماہرین کے نزدیک ان کی نوعیت غیر معمولی نہیں، چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری نے وی نیوز کو بتایا کہ کوئی بھی فالٹ لائن جب فعال ہوتی ہے تو وہاں جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، زلزلہ پیما مرکز
’لیکن اس میں گھبرانے کی بات نہیں کیوں کہ اسکی شدت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ کمی آرہی ہے، گزشتہ 100 برس سے سعودآباد کی یہ فالٹ لائن متحرک ہے، کراچی خطرے میں نہیں اب تک کے جھٹکوں میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔‘
چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدرلغاری کے مطابق جاپانی ماہرین 1992 سے پاکستان کی اس فالٹ لائن پر کام کر رہے ہیں، یہ فالٹ بھی پاکستانی اور جاپانی ماہرین نے مل کر تلاش کی ہے، مزید زلزلے کی جھٹکوں کے حوالے سے کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
مزید پڑھیں:چند گھنٹوں کے دوران 5 جھٹکے، کراچی میں زلزلے کیوں آرہے ہیں؟
امیر حیدر لغاری کے مطابق کراچی میں فالٹ لائن کی بات کی جائے تو یہ موسمیات والے روڈ سے ہوتی ہوئی ملیر کی طرف جاتی ہے جو کہ ایکٹو فالٹ لائن ہے، اس وقت یہ زیادہ ایکٹو ہو گئی ہے جس کی وجہ سے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، اس فالٹ لائن پر پاکستانی اور جاپانیز ماہرین عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں جو بلوچستان تک جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارلی سونامی وارننگ امیر حیدر لغاری جاپانی ماہرین جھٹکے چیف میٹرولوجسٹ ڈیفینس زلزلے فالٹ لائن کراچی کورنگی لانڈھی ملیر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارلی سونامی وارننگ جاپانی ماہرین جھٹکے چیف میٹرولوجسٹ ڈیفینس زلزلے فالٹ لائن کراچی کورنگی لانڈھی ملیر میں زلزلے کے محسوس کیے فالٹ لائن کراچی میں کے مطابق
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل