‌اسلام آباد(نیوز ڈیسک)تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ ہو گیا ہے۔

تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں نرمی کا امکان ہے جبکہ انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد موجودہ 6 لاکھ روپے سے بڑھائی جا سکتی ہے اور ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

ممکنہ نئی شرح کے مطابق ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 2.

5 فیصد ہونے کا امکان ہے، ایک لاکھ 83 ہزار روپے پر انکم ٹیکس 12.5 فیصد ہو سکتا ہے، دو لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 22.5 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان ہے، تین لاکھ 33 ہزار روپے تک کی تنخواہ پر ٹیکس 27.5 فیصد ہو سکتا ہے، جبکہ تین لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد تنخواہ پر انکم ٹیکس 32.5 فیصد تک ہو سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بجٹ مذاکرات میں دفاعی ضروریات مؤخر نہ کرنے کا دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے، جس پر آئی ایم ایف نے دفاعی بجٹ میں ضروری اضافے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ بجٹ مذاکرات کے دوران پاکستان کی دفاعی ترجیحات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

غزہ میں امداد لیتے افراد پر اسرائیل کی بمباری، مزید 40 فلسطینی شہید

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ہزار روپے تنخواہ پر

پڑھیں:

رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا