بھارت میں بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غفلت کے نتیجے میں 36 لاکھ سے زائد بھارتی عوام سیلاب سے متاثر ہو گئے۔

مودی سرکار آسام سمیت شمال مشرقی بھارت میں شدید بارشوں اور سیلاب کی صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی، جس کے نتیجے میں  شمال مشرقی بھارت میں سیلاب متاثرین کی تعداد 36 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ لاکھوں افراد کو ریلیف کیمپس میں منتقل  کیا گیا ہے۔

آسام کے 19 اضلاع میں شدید سیلابی صورتحال نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے جب کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مؤثر امدادی اقدامات اور ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی  کے فقدان نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

بارشوں اور سیلاب کے باعث 34 افراد ہلاک اور اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کو آبی جارحیت کی دھمکیاں دینے والی مودی سرکار اپنے ہی ملک میں پانی کے مسائل پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ شمال مشرقی بھارت میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

بھارت میں مون سون کے دوران پانی کے ذخائر اور نکاسی آب کے ناقص انتظام نے حکومتی بدانتظامی کو بے نقاب کردیا  ہے۔

سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکیاں دینے والی مودی سرکار اپنی ہی سرزمین پر پانی کے بحران کو سنبھالنے میں ناکام ثابت  ہو چکی ہے۔ مودی سرکار اس وقت خود بہار میں الیکشن میں مصروف ہے اور ناکام آپریشن سندور پر نمائی کررہی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مودی سرکار بھارت میں

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ