UrduPoint:
2026-07-24@09:57:26 GMT

شنگریلا ڈائیلاگ کے بعد امریکہ اور چین کس طرف جا رہے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

شنگریلا ڈائیلاگ کے بعد امریکہ اور چین کس طرف جا رہے ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 جون 2025ء) ایشیا کا سب سے بڑا دفاعی اور سکیورٹی فورم، شنگریلا ڈائیلاگ ہر سال سنگاپور میں منعقد ہوتا ہے۔ امسالہ اس فورم کا اختتام ایک واضح پیغام کے ساتھ گذشتہ ویک اینڈ پر ہوا۔ '' ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ہند بحرالکاہل اولین ترجیح ہے جبکہ امریکہ چین کے انداز کو جارحانہ سمجھتا ہے۔‘‘

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جو اس بار شنگریلا ڈائیلاگ میں پہلی بار تقریر کر رہے تھے، نے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے قریب چین کی فوجی موجودگی میں اضافے کے جواب میں اپنے دفاع کو تیز اور مضبوط تر کریں۔

تائیوان ایک خود مختار جزیرہ ہے، جس پر بیجنگ اپنا دعویٰ جتاتا ہے۔ اپنی تقریر میں امریکی وزیر دفاع نے چین کا نام 20 مرتبہ سے زیادہ لیا۔

(جاری ہے)

ساتھ ہی انہوں نے چین کو تائیوان پر قبضہ کرنے کے اس کے ممکنہ منصوبے سے اجنتاب برتنے کے بارے میں براہ راست انتباہ کیا۔

گزشتہ ہفتے کے روز اپنی تقریر میں ہیگستھ نے کہا،''کمیونسٹ چین کی طرف سے طاقت کے ذریعے تائیوان کو فتح کرنے کی کسی بھی کوشش کے ہند بحرالکاہل اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور اس اہم مسئلے کو بظاہر خوش آئند بنا کر پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین سے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا،''ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو لیکن یہ یقینی طور پر ہو سکتا ہے۔‘‘

اُدھر چینی رئیر ایڈمرل ہو گینگ فینگ، جو ''نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی آف دی پیپلز لبریشن آرمی‘‘ کے وفد کی قیادت کر رہے تھے، نے ان ریمارکس کو ''بے بنیاد الزامات‘‘ قرار دیا۔

اگلے روز چین کی وزارت خارجہ نے بھی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ریمارکس پر احتجاج کرتے ہوئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایشیا پیسیفک میں امریکی فوجی موجودگی خطے کو ''بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر رہی ہے۔‘‘

چین کے وزیر دفاع نے دوری کیوں اختیار کی؟

شنگریلا ڈائیلاگ میں چین حسب معمول ہر سال اپنی ''انڈو پیسیفک‘‘ ہند بحرالکاہل حکمت عملی کا خاکہ پیش کرتا تھا اس سال اسے منسوخ کر دیا گیا اور اس بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ بیجنگ نے چینی وزیر دفاع ڈونگ جون کو سنگاپور نہ بھیجنے کا انتخاب تین روزہ سربراہی اجلاس کے دوران کیوں کیا۔

سنگھوا یونیورسٹی کے سنٹر فار انٹرنیشنل سکیورٹی اینڈ اسٹریٹیجی کے سینئر فیلو ژو بو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چینی وزیر کسی اسٹریٹجک وجہ سے نہیں بلکہ سفری شیڈول کے انتظامات کی وجہ سے غیر حاضر تھے۔

دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ چین کی اپنی سکیورٹی کے معاملات پر سخت سوالات سے بچنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ ایک اور ممکنہ عنصر یہ ہے کہ شنگریلا ڈائیلاگ میں واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور میں پہلی بار عالمی سطح پر اپنی انڈو پیسیفک پالیسی کو پیش کر رہا تھا۔

چین امریکہ تعلقات کا مستقبل

چین، جس کے پاس جنگی جہازوں کی تعداد کے لحاظ سے اب دنیا کی سب سے بڑی بحریہ ہے، نے مبینہ طور پر مئی کے اوائل سے مشرقی ایشیائی پانیوں میں بحری اور ساحلی محافظ جہازوں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے۔

چین کے عسکری ماہر ژاؤ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ امریکی وزیر دفاع ہیگستھ نے جو لہجہ امریکہ اور چین کے مابین مقابلے کے ضمن میں اپنے خطاب میں اختیار کیا وہ بائیڈن انتظامیہ کے مقابلے میں ''تقریباً 180 ڈگری تبدیلی‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

گذشتہ سال اسی اجلاس میں پوڈیم پر کھڑے ہو کر، سابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس بات پر زور دیا تھا کہ چین کے ساتھ جنگ ​​کے آثار نہ تو نمایاں ہیں اور نہ ہی یہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کسی غلط اندازے یا حساب سے بچنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

اس بار شنگریلا ڈائیلاگ میں چین کے رویے کے بارے میں تائیوان کی تمکانگ یونیورسٹی کے گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر لن ینگ یو نے کہا،''مجھے ایسا لگتا ہے کہ چین نے اس بار زیادہ محتاط اور دفاعی انداز اختیار کیا ہے۔

وہ امریکہ کی طرف سے قدم اٹھانے کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘

سنگھوا یونیورسٹی میں سینٹر فار انٹرنیشنل سکیورٹی اینڈ اسٹریٹیجی (CISS) کے ڈائریکٹر ڈا وائی سے چینی امریکی تعلقات کے مستقبل کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا انہیں ''دونوں طرف سے روزانہ کی دفاعی کارروائیاں میں اضافہ کی توقع ہے، اس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید کشیدہ کرنا نہیں ہوگا بلکہ دونوں'' زیادہ متصادم دکھائی دینے کی کوشش کریں گے۔

‘‘

فرانسیسی صدرکا عالمی تقسیم سے خبردار

اس بار کے شنگریلا ڈائیلاگ میں شریک فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کو اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ماکروں کا کہنا تھا،''دوسروں کو دی گئی ہدایات کے دوران اگر ہم اپنی سائیڈ کا انتخاب اپنے حساب سے کریں گے تو ہم عالمی نظام کو ختم کر دیں گے اور ہم ان تمام اداروں کو تباہ کر دیں گے جنہیں ہم نے دوسری عالمی جنگ کے بعد بنایا تھا۔‘‘

ادارت: عاطف توقیر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی وزیر دفاع انہوں نے کہ چین نے کہا چین کے چین کی نے چین

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران