Express News:
2026-07-24@05:01:53 GMT

وزیر اعظم سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم پاکستان نے سنیئر صحافیوں کے ساتھ ملک کے اہم معاملات عالمی معاملات، پاک بھارت کشیدگی سمیت دیگر اہم موضوعات پر کھل کر بات کی۔ وزیر اعظم پاکستان نے گفتگو کے شروع میں کہا کہ اب ان کی حکومت کو تقریبا سو ا سال ہو گیا ہے۔

وہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سواسال میں ان کی حکومت کا مالی کرپشن سمیت کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کو کرپشن فری اور اسکینڈل فری حکومت دی ہے۔ شفافیت ان کی حکومت کا بنیادی اصول ہے۔ اور انھیں فخر ہے کہ انھوں نے پاکستان کو ایک شفاف حکومت دی ہے۔ ہم نے شفافیت کے جو معیار مقرر کیے ہیں، وہ عالمی معیار کے مطابق ہیں۔

وزیر اعظم سے جب صحافیوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کا پانی بند کرنے کے حوالے سے سوال کیے تو انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان میں ڈیم بنانے چاہیے۔ ہمیں اپنے پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ بنانا چاہیے۔ اس لیے دیا میر بھاشا ڈیم بنائیں گے اور پاکستان میں ایسے ڈیم جن پر چاروں صوبے متفق ہیں، انھیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک مربوط حکمت عملی جلد عوام کے سامنے پیش کروںگا۔

ہم چاروں صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا میں ذاتی طو رپر کالا باغ ڈیم کو پاکستان کے مفاد میں سمجھتا ہوں لیکن کوئی بھی منصوبہ پاکستان کے اتحاد سے زیادہ اہم نہیں، اس لیے صرف وہی ڈیم بنائے جائیں گے جن پر چاروں صوبے متفق ہوںگے۔ انھوں نے کہا کہ کہ اگر ہمارا خیال ہے کہ ہمیں ڈیم بنانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے مدد کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل سے ڈیم بنانے ہوںگے۔ اگر پاکستان نے پانی کے حوالے سے ایک محفوظ ملک بننا ہے تو ڈیم بنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ کیا بھارت ہمارا پانی روک سکتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھارت کے پاس پانی روکنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنا ہے تو اسے بھی ڈیم بنانا ہوںگے، جو فوری ممکن نہیں۔ صرف دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر وہ ہمار ا کچھ پانی روک سکتا ہے۔ باقی پانی روکنے کی اس کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ہم بھارت کو ایسے ڈیم نہیں بنانے دیں گے جو پاکستان کا پانی روکنے کے لیے ہوں۔ تا ہم میں پھر بھی کہوں گا کہ ہمیں بھارت سے پہلے ڈیم بنانے ہوںگے۔

بھارت سے بات چیت کے حوالے سے سوالات کے جواب میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ میں نے بھارت کو مذاکرات کے لیے چار نکاتی ایجنڈا تجویز کیا ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ کشمیر، دہشت گردی، تجارت اور پانی پر مذاکرات کرنے کے لیے تیا رہیں۔ اگر بھارت ان چار نکا ت پر بات چیت کے لیے تیار ہے تو ہم بھی تیار ہیں لیکن اگر بھارت یہ چاہے کہ صرف اس کی مرضی کے ایجنڈے پر بات ہو تو یہ ممکن نہیں۔ بات ہو گی تو سب موضوعات پر بات ہوگی۔اس سوال پر کہ کیا آپ بھارت کے وزیر اعظم کو کسی نیوٹرل مقام پر ملنے کا عندیہ دے چکے ہیں تو وزیر اعظم نے کہا کہ جب امریکا سیز فائر کے لیے بات کر رہا تھا، تب انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ دونوں کو اکٹھے بٹھایا جائے تو میں نے کہا تھا کہ میں نیوٹرل مقام پر ملنے کے لیے تیار ہوں۔

میں اپنی اس آفر پر آج بھی قائم ہوں۔ پہلگام واقعہ پر وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل آرمی چیف نے پہلگام واقعہ کے فوری بعد کہا کہ پاکستان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے ان کی بات پر یقین ہے۔ اسی لیے میں نے عالمی تحقیقات کی پیشکش کی۔ انھوں نے کہا میں نے امریکا سے کہا تھا کہ جو ممالک پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دوست ہیں ،ان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔

لیکن بھارت نے ہماری یہ پیشکش قبول نہیں کی اور جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس سوال پر کہ آپ کے ذہن میں کونسے ممالک ہیں۔ انھوں نے کہ امریکا پاکستان اور بھارت دونوں کا دوست ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت کے دوست ہیں۔ میری جب ان ممالک کے سربراہان سے بات ہوئی تو میں نے ان کو کہا تھا کہ آپ سب مل کر تحقیقات کر لیں۔ ہم ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم نے دنیا کے ممالک کو شفاف غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تو عالمی دنیا کی رائے بدل گئی۔ وہ سمجھ گئے، پاکستان سچ بول رہا ہے۔ اسی لیے ہم بھارت کو عالمی سفارتکاری میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آج بھی عالمی رائے عامہ بھارت کے خلاف ہے۔ اس سوال پر کہ کیا بھارت دوبارہ جارحیت کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تیا رہیں۔ ہم پہلے بھی تیار تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب مودی کے لیے دوبارہ جارحیت کرنا مشکل ہے۔ وہ اپنی مقامی سیاست کی وجہ سے ایسی گفتگو تو کر رہا ہے۔ اس کی زبان اچھی نہیں ہے۔ لیکن ہار نے اس کو بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ہم نے بھارت سے 1971کا بدلہ لے لیا ہے۔ چھ طیاروں کی تباہی مودی کو لے بیٹھی ہے۔ اس لیے ہم مودی کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ ہمیں ان کی کمزور سیاسی پوزیشن کا اندازہ ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں بھارت دوبارہ پاکستان پر حملہ کی جرات نہیں کرے گا۔ اول تو عالمی رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ دوسرا صدر ٹرمپ اس سیز فائر کو اپنا ایک کارنامہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ جس میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اس لیے صدر ٹرمپ اس سیز فائر کو مستقل رکھنے کے لیے دباؤ قائم رکھیں گے۔ بھارت کے اندر بھی مودی کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں کی وہ دوبارہ جارحیت کرے۔

تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں میاں شہباز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرچکا ہوں۔ میری یہ پیشکش آج بھی قائم ہے۔ جہاں تک ان کے تحریک چلانے کا تعلق ہے، وہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے، ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔ ہماری مذاکرات کی پیشکش موجود ہے۔بجٹ کے حوالے سے وزیر اعظم کی رائے تھی کہ وہ عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔

اس پر آئی ایم ایف سے بات ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے معاملات طے ہوتے ہیں۔ سب کے سامنے آجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کلچر کو ٹھیک کرنا ہے تب ہی ہم قرضوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہر پیر کی صبح ٹیکس کی ریکوری پر ایف بی آر کی میٹنگ خود لیتے ہیں۔ ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو ٹیکس کی ریکوری کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم پاکستان انھوں نے کہا کہ اس سوال پر کہ انھوں نے کہ کے لیے تیار کے حوالے سے پاکستان نے پاکستان کا شہباز شریف ڈیم بنانے کی پیشکش بھارت کے ہم بھارت بھارت سے کے ساتھ نہیں ہے بات ہو تھا کہ اس لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا