Express News:
2026-06-03@03:47:11 GMT

وزیر اعظم سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم پاکستان نے سنیئر صحافیوں کے ساتھ ملک کے اہم معاملات عالمی معاملات، پاک بھارت کشیدگی سمیت دیگر اہم موضوعات پر کھل کر بات کی۔ وزیر اعظم پاکستان نے گفتگو کے شروع میں کہا کہ اب ان کی حکومت کو تقریبا سو ا سال ہو گیا ہے۔

وہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سواسال میں ان کی حکومت کا مالی کرپشن سمیت کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کو کرپشن فری اور اسکینڈل فری حکومت دی ہے۔ شفافیت ان کی حکومت کا بنیادی اصول ہے۔ اور انھیں فخر ہے کہ انھوں نے پاکستان کو ایک شفاف حکومت دی ہے۔ ہم نے شفافیت کے جو معیار مقرر کیے ہیں، وہ عالمی معیار کے مطابق ہیں۔

وزیر اعظم سے جب صحافیوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کا پانی بند کرنے کے حوالے سے سوال کیے تو انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان میں ڈیم بنانے چاہیے۔ ہمیں اپنے پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ بنانا چاہیے۔ اس لیے دیا میر بھاشا ڈیم بنائیں گے اور پاکستان میں ایسے ڈیم جن پر چاروں صوبے متفق ہیں، انھیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک مربوط حکمت عملی جلد عوام کے سامنے پیش کروںگا۔

ہم چاروں صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا میں ذاتی طو رپر کالا باغ ڈیم کو پاکستان کے مفاد میں سمجھتا ہوں لیکن کوئی بھی منصوبہ پاکستان کے اتحاد سے زیادہ اہم نہیں، اس لیے صرف وہی ڈیم بنائے جائیں گے جن پر چاروں صوبے متفق ہوںگے۔ انھوں نے کہا کہ کہ اگر ہمارا خیال ہے کہ ہمیں ڈیم بنانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے مدد کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل سے ڈیم بنانے ہوںگے۔ اگر پاکستان نے پانی کے حوالے سے ایک محفوظ ملک بننا ہے تو ڈیم بنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ کیا بھارت ہمارا پانی روک سکتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھارت کے پاس پانی روکنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنا ہے تو اسے بھی ڈیم بنانا ہوںگے، جو فوری ممکن نہیں۔ صرف دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر وہ ہمار ا کچھ پانی روک سکتا ہے۔ باقی پانی روکنے کی اس کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ہم بھارت کو ایسے ڈیم نہیں بنانے دیں گے جو پاکستان کا پانی روکنے کے لیے ہوں۔ تا ہم میں پھر بھی کہوں گا کہ ہمیں بھارت سے پہلے ڈیم بنانے ہوںگے۔

بھارت سے بات چیت کے حوالے سے سوالات کے جواب میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ میں نے بھارت کو مذاکرات کے لیے چار نکاتی ایجنڈا تجویز کیا ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ کشمیر، دہشت گردی، تجارت اور پانی پر مذاکرات کرنے کے لیے تیا رہیں۔ اگر بھارت ان چار نکا ت پر بات چیت کے لیے تیار ہے تو ہم بھی تیار ہیں لیکن اگر بھارت یہ چاہے کہ صرف اس کی مرضی کے ایجنڈے پر بات ہو تو یہ ممکن نہیں۔ بات ہو گی تو سب موضوعات پر بات ہوگی۔اس سوال پر کہ کیا آپ بھارت کے وزیر اعظم کو کسی نیوٹرل مقام پر ملنے کا عندیہ دے چکے ہیں تو وزیر اعظم نے کہا کہ جب امریکا سیز فائر کے لیے بات کر رہا تھا، تب انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ دونوں کو اکٹھے بٹھایا جائے تو میں نے کہا تھا کہ میں نیوٹرل مقام پر ملنے کے لیے تیار ہوں۔

میں اپنی اس آفر پر آج بھی قائم ہوں۔ پہلگام واقعہ پر وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل آرمی چیف نے پہلگام واقعہ کے فوری بعد کہا کہ پاکستان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے ان کی بات پر یقین ہے۔ اسی لیے میں نے عالمی تحقیقات کی پیشکش کی۔ انھوں نے کہا میں نے امریکا سے کہا تھا کہ جو ممالک پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دوست ہیں ،ان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔

لیکن بھارت نے ہماری یہ پیشکش قبول نہیں کی اور جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس سوال پر کہ آپ کے ذہن میں کونسے ممالک ہیں۔ انھوں نے کہ امریکا پاکستان اور بھارت دونوں کا دوست ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت کے دوست ہیں۔ میری جب ان ممالک کے سربراہان سے بات ہوئی تو میں نے ان کو کہا تھا کہ آپ سب مل کر تحقیقات کر لیں۔ ہم ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم نے دنیا کے ممالک کو شفاف غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تو عالمی دنیا کی رائے بدل گئی۔ وہ سمجھ گئے، پاکستان سچ بول رہا ہے۔ اسی لیے ہم بھارت کو عالمی سفارتکاری میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آج بھی عالمی رائے عامہ بھارت کے خلاف ہے۔ اس سوال پر کہ کیا بھارت دوبارہ جارحیت کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تیا رہیں۔ ہم پہلے بھی تیار تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب مودی کے لیے دوبارہ جارحیت کرنا مشکل ہے۔ وہ اپنی مقامی سیاست کی وجہ سے ایسی گفتگو تو کر رہا ہے۔ اس کی زبان اچھی نہیں ہے۔ لیکن ہار نے اس کو بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ہم نے بھارت سے 1971کا بدلہ لے لیا ہے۔ چھ طیاروں کی تباہی مودی کو لے بیٹھی ہے۔ اس لیے ہم مودی کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ ہمیں ان کی کمزور سیاسی پوزیشن کا اندازہ ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں بھارت دوبارہ پاکستان پر حملہ کی جرات نہیں کرے گا۔ اول تو عالمی رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ دوسرا صدر ٹرمپ اس سیز فائر کو اپنا ایک کارنامہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ جس میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اس لیے صدر ٹرمپ اس سیز فائر کو مستقل رکھنے کے لیے دباؤ قائم رکھیں گے۔ بھارت کے اندر بھی مودی کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں کی وہ دوبارہ جارحیت کرے۔

تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں میاں شہباز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرچکا ہوں۔ میری یہ پیشکش آج بھی قائم ہے۔ جہاں تک ان کے تحریک چلانے کا تعلق ہے، وہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے، ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔ ہماری مذاکرات کی پیشکش موجود ہے۔بجٹ کے حوالے سے وزیر اعظم کی رائے تھی کہ وہ عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔

اس پر آئی ایم ایف سے بات ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے معاملات طے ہوتے ہیں۔ سب کے سامنے آجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کلچر کو ٹھیک کرنا ہے تب ہی ہم قرضوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہر پیر کی صبح ٹیکس کی ریکوری پر ایف بی آر کی میٹنگ خود لیتے ہیں۔ ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو ٹیکس کی ریکوری کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم پاکستان انھوں نے کہا کہ اس سوال پر کہ انھوں نے کہ کے لیے تیار کے حوالے سے پاکستان نے پاکستان کا شہباز شریف ڈیم بنانے کی پیشکش بھارت کے ہم بھارت بھارت سے کے ساتھ نہیں ہے بات ہو تھا کہ اس لیے

پڑھیں:

علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی

ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی  گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف