Express News:
2026-07-24@06:02:06 GMT

وزیر اعظم سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم پاکستان نے سنیئر صحافیوں کے ساتھ ملک کے اہم معاملات عالمی معاملات، پاک بھارت کشیدگی سمیت دیگر اہم موضوعات پر کھل کر بات کی۔ وزیر اعظم پاکستان نے گفتگو کے شروع میں کہا کہ اب ان کی حکومت کو تقریبا سو ا سال ہو گیا ہے۔

وہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سواسال میں ان کی حکومت کا مالی کرپشن سمیت کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کو کرپشن فری اور اسکینڈل فری حکومت دی ہے۔ شفافیت ان کی حکومت کا بنیادی اصول ہے۔ اور انھیں فخر ہے کہ انھوں نے پاکستان کو ایک شفاف حکومت دی ہے۔ ہم نے شفافیت کے جو معیار مقرر کیے ہیں، وہ عالمی معیار کے مطابق ہیں۔

وزیر اعظم سے جب صحافیوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کا پانی بند کرنے کے حوالے سے سوال کیے تو انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان میں ڈیم بنانے چاہیے۔ ہمیں اپنے پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ بنانا چاہیے۔ اس لیے دیا میر بھاشا ڈیم بنائیں گے اور پاکستان میں ایسے ڈیم جن پر چاروں صوبے متفق ہیں، انھیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک مربوط حکمت عملی جلد عوام کے سامنے پیش کروںگا۔

ہم چاروں صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا میں ذاتی طو رپر کالا باغ ڈیم کو پاکستان کے مفاد میں سمجھتا ہوں لیکن کوئی بھی منصوبہ پاکستان کے اتحاد سے زیادہ اہم نہیں، اس لیے صرف وہی ڈیم بنائے جائیں گے جن پر چاروں صوبے متفق ہوںگے۔ انھوں نے کہا کہ کہ اگر ہمارا خیال ہے کہ ہمیں ڈیم بنانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے مدد کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل سے ڈیم بنانے ہوںگے۔ اگر پاکستان نے پانی کے حوالے سے ایک محفوظ ملک بننا ہے تو ڈیم بنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ کیا بھارت ہمارا پانی روک سکتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھارت کے پاس پانی روکنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنا ہے تو اسے بھی ڈیم بنانا ہوںگے، جو فوری ممکن نہیں۔ صرف دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر وہ ہمار ا کچھ پانی روک سکتا ہے۔ باقی پانی روکنے کی اس کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ہم بھارت کو ایسے ڈیم نہیں بنانے دیں گے جو پاکستان کا پانی روکنے کے لیے ہوں۔ تا ہم میں پھر بھی کہوں گا کہ ہمیں بھارت سے پہلے ڈیم بنانے ہوںگے۔

بھارت سے بات چیت کے حوالے سے سوالات کے جواب میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ میں نے بھارت کو مذاکرات کے لیے چار نکاتی ایجنڈا تجویز کیا ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ کشمیر، دہشت گردی، تجارت اور پانی پر مذاکرات کرنے کے لیے تیا رہیں۔ اگر بھارت ان چار نکا ت پر بات چیت کے لیے تیار ہے تو ہم بھی تیار ہیں لیکن اگر بھارت یہ چاہے کہ صرف اس کی مرضی کے ایجنڈے پر بات ہو تو یہ ممکن نہیں۔ بات ہو گی تو سب موضوعات پر بات ہوگی۔اس سوال پر کہ کیا آپ بھارت کے وزیر اعظم کو کسی نیوٹرل مقام پر ملنے کا عندیہ دے چکے ہیں تو وزیر اعظم نے کہا کہ جب امریکا سیز فائر کے لیے بات کر رہا تھا، تب انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ دونوں کو اکٹھے بٹھایا جائے تو میں نے کہا تھا کہ میں نیوٹرل مقام پر ملنے کے لیے تیار ہوں۔

میں اپنی اس آفر پر آج بھی قائم ہوں۔ پہلگام واقعہ پر وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل آرمی چیف نے پہلگام واقعہ کے فوری بعد کہا کہ پاکستان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے ان کی بات پر یقین ہے۔ اسی لیے میں نے عالمی تحقیقات کی پیشکش کی۔ انھوں نے کہا میں نے امریکا سے کہا تھا کہ جو ممالک پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دوست ہیں ،ان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔

لیکن بھارت نے ہماری یہ پیشکش قبول نہیں کی اور جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس سوال پر کہ آپ کے ذہن میں کونسے ممالک ہیں۔ انھوں نے کہ امریکا پاکستان اور بھارت دونوں کا دوست ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت کے دوست ہیں۔ میری جب ان ممالک کے سربراہان سے بات ہوئی تو میں نے ان کو کہا تھا کہ آپ سب مل کر تحقیقات کر لیں۔ ہم ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم نے دنیا کے ممالک کو شفاف غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تو عالمی دنیا کی رائے بدل گئی۔ وہ سمجھ گئے، پاکستان سچ بول رہا ہے۔ اسی لیے ہم بھارت کو عالمی سفارتکاری میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آج بھی عالمی رائے عامہ بھارت کے خلاف ہے۔ اس سوال پر کہ کیا بھارت دوبارہ جارحیت کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تیا رہیں۔ ہم پہلے بھی تیار تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب مودی کے لیے دوبارہ جارحیت کرنا مشکل ہے۔ وہ اپنی مقامی سیاست کی وجہ سے ایسی گفتگو تو کر رہا ہے۔ اس کی زبان اچھی نہیں ہے۔ لیکن ہار نے اس کو بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ہم نے بھارت سے 1971کا بدلہ لے لیا ہے۔ چھ طیاروں کی تباہی مودی کو لے بیٹھی ہے۔ اس لیے ہم مودی کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ ہمیں ان کی کمزور سیاسی پوزیشن کا اندازہ ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں بھارت دوبارہ پاکستان پر حملہ کی جرات نہیں کرے گا۔ اول تو عالمی رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ دوسرا صدر ٹرمپ اس سیز فائر کو اپنا ایک کارنامہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ جس میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اس لیے صدر ٹرمپ اس سیز فائر کو مستقل رکھنے کے لیے دباؤ قائم رکھیں گے۔ بھارت کے اندر بھی مودی کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں کی وہ دوبارہ جارحیت کرے۔

تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں میاں شہباز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرچکا ہوں۔ میری یہ پیشکش آج بھی قائم ہے۔ جہاں تک ان کے تحریک چلانے کا تعلق ہے، وہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے، ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔ ہماری مذاکرات کی پیشکش موجود ہے۔بجٹ کے حوالے سے وزیر اعظم کی رائے تھی کہ وہ عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔

اس پر آئی ایم ایف سے بات ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے معاملات طے ہوتے ہیں۔ سب کے سامنے آجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کلچر کو ٹھیک کرنا ہے تب ہی ہم قرضوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہر پیر کی صبح ٹیکس کی ریکوری پر ایف بی آر کی میٹنگ خود لیتے ہیں۔ ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو ٹیکس کی ریکوری کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم پاکستان انھوں نے کہا کہ اس سوال پر کہ انھوں نے کہ کے لیے تیار کے حوالے سے پاکستان نے پاکستان کا شہباز شریف ڈیم بنانے کی پیشکش بھارت کے ہم بھارت بھارت سے کے ساتھ نہیں ہے بات ہو تھا کہ اس لیے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا