حجاج کرام کی مکہ سے منیٰ کی جانب روانگی، سعودی حکومت کی جانب سے جامع انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
آج (بدھ کی) صبح سے ہی لاکھوں حجاج کرام مکہ مکرمہ سے مقدس مقام منیٰ کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔یہ سفر حج کے رسمی آغاز کی علامت ہے جو 8 ذوالحجہ کو منیٰ میں قیام سے شروع ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اس سال حج کے لیے کتنے لاکھ لوگ سعودی عرب پہنچے؟
حجاج کرام کے اس مقدس سفر کو انتہائی منظم اور پر امن بنانے کے لیے سعودی حکومت نے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
منیٰ میں حجاج کرام کے قیام کے لیے جدید ترین خیموں کا ایک وسیع شہر قائم کیا گیا ہے جہاں ہر خیمے میں جدید سہولیات دستیاب ہیں۔
سعودی حکام نے نقل و حمل کے لیے خصوصی میٹرو اور بسیں چلائی ہیں جو حجاج کو مکہ سے منیٰ اور دیگر مقدس مقامات تک پہنچائیں گی۔
سیکیورٹی کے لیے 25,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جو حجاج کی رہنمائی اور تحفظ کے لیے 24 گھنٹے مصروف عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطین کے عازمین حج کا مکمل معاونت کرنے پر سعودی عرب سے اظہار تشکر
صحت کے شعبے میں بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں جس میں 25 ہسپتالوں اور 155 صحت مراکز کو فعال کیا گیا ہے جبکہ 1,500 ایمبولینسز اور 30,000 طبی عملہ تیار رکھا گیا ہے۔
حجاج کرام کی رہائش اور کھانے پینے کے لیے خصوصی انتظامات کے ساتھ ساتھ صفائی کے لیے 13,000 سے زائد ورکرز متعین کیے گئے ہیں۔
اس سال تقریباً 20 لاکھ سے زائد مسلمان دنیا بھر سے حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔
سعودی حکومت نے حجاج کرام کی سہولت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا ہے جس میں اسمارٹ کارڈز اور موبائل ایپلیکیشنز شامل ہیں جو حجاج کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
یہ تمام انتظامات سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت حجاج کرام کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ حجاج کرام اپنے مقدس فرائض پوری سکون اور آسانی سے ادا کر سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی حکومت کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔