سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار ایک لاکھ 21 ہزار پوائنٹس کی حد عبور
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 21 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔
کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، 600 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 21 ہزار 104 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 1573 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ ایک لاکھ 20 ہزار 450 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انڈیکس کا سابقہ ریکارڈ 1 لاکھ 20 ہزار 796 پوائنٹس تھا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سٹاک مارکیٹ میں پوائنٹس کی ایک لاکھ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔