اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس بلند ترین ایک لاکھ ، 21 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح ایک لاکھ ، 21 ہزار پوائنٹس پر پہنچ گیا۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ ایک اور سنگ میل عبور کر لیا۔کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 630 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 21 ہزار 81 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔واضح رہے گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت کاروبار کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا تھا۔دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 12 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قیمت 282 روپے ہو گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔