پاکستانی وفد کی فرانسیسی مندوب سے ملاقات، بھارتی جارحیت کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت پاکستانی سفارتی وفد نے اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل مندوب جیروم بونافون سے ملاقات کی اور زور دیا ہے کہ فرانسیسی حکومت بھارت کو جنگ بندی جاری رکھنے، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور جامع مذاکرات کے آغاز کیلئے کردار ادا کرے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے سفیر جیروم بونافون نے پاکستان کے سفارتی وفد سے نیویارک میں ملاقات کی۔وفد نے فرانسیسی سفیر کو جنوبی ایشیا میں بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت اور یکطرفہ اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا۔
بلاول بھٹو نے اس موقع پر کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی معتبر تحقیقات یا ثبوت کے پاکستان پر عائد کرنا نہایت سنگین نتائج کا باعث بن رہا ہے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر یکطرفہ فوجی حملوں، ہلاکتوں اور زخمیوں، شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ معطل کرنے اور بھارت کی مسلسل جارحانہ روش کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے کے نازک اسٹریٹیجک توازن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستانی وفد کے سربراہ نے متنبہ کیا کہ بھارت خطے میں یکطرفہ حملوں کو نیا معمول بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ایٹمی خطے جیسے جنوبی ایشیا میں نہایت سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، بشمول اُن عناصر کے جو بھارت سے مالی و مادی معاونت حاصل کر رہے ہیں، دہشتگردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پُرامن حل، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔پاکستانی وفد نے فرانس سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانے، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور پاکستان و بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز کے لیے کردار ادا کرے۔
سفارتی زرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے ملک کی حمایت اور بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تحمل، مکالمے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
پاکستانی وفد میں حنا ربانی کھر، شیری رحمٰن، ڈاکٹر مصدق ملک، خرم دستگیر خان، جلیل عباس جیلانی، تہمینہ جنجوعہ، بشریٰ انجم بٹ اور سید فیصل سبزواری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ آباد؛2بچوں کا قتل، زیرحراست ملزم کی نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستانی وفد اقوام متحدہ بھارت کی کے لیے
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوافرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔
مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔
نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرارپراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھےفرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحتڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔
فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موتڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل