— فائل فوٹو 

کراچی میں ملیر جیل واقعے کے بعد محکمہ جیل میں اہم انتظامی اقدامات کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ جیل میں انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کےلیے قوانین میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے آرڈیننس کے اجراء کی منظوری دے دی ہے، آرڈیننس کےذریعے انتظامی اور رولز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی جی جیل، ڈی آئی جی اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے عہدوں پر سول افسران تعینات ہوسکیں گے۔

کراچی: ملیر جیل سے فرار مزید 3 قیدی گرفتار، تعداد 94 ہو گئی

جیل حکام کے مطابق 122 قیدی ابھی بھی مفرور ہیں، گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اب انتظامی عہدوں پر پولیس اور صوبائی سول سروس کے افسران کو تعینات کیا جا سکے گا جبکہ پرانے قانون کے تحت جیلوں کے انتظامی عہدوں پر صرف محکمہ جیل کے افسران کو تعینات کیا جا سکتا تھا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ قانون نے قائم مقام گورنر اویس قادر شاہ کو آرڈیننس کا مسودہ بھجوایا تھا۔

واضح رہے کہ سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق دو روز قبل ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف کے باعث توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نکلے تھے، رات ڈیڑھ بجے کے قریب قیدیوں نے مرکزی دروازہ توڑا، 216 قیدی فرار ہوگئے۔

ابتدائی رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعات میں 12 قیدی اور مختلف اسٹاف ارکان زخمی ہوئے تھے، فرار ہونے کے دوران فائرنگ سے طاہر خان نامی قیدی ہلاک بھی ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: محکمہ جیل کے مطابق

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے