بلوچستان اسمبلی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی مسودہ قانون 2025 منظور کرلیا۔

بل کے حوالے سے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہناتھا کہ اس کی منظوری سے صوبے میں لا پتا افراد کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں بلوچستان میں دہشتگردی کی بھارتی سرپرستی کے ٹھوس شواہد سامنے آگئے

اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرصدارت اجلاس میں انسداد دہشتگردی بلوچستان کا ترمیمی مسودہ قانون صوبائی اسمبلی میں رکن اسمبلی محمد صادق سنجرانی نے پیش کیا۔

بل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہناتھا کہ اگر کسی کو ادارے اٹھاتے ہیں تو تحقیقات کے لیے اسے 3 ماہ تک حراستی سینٹر میں رکھنے کا اختیار ہوگا، 3 ماہ بعد عدالت میں پیش کرکے اس پر لگائے جانے والے الزام سے آگاہ کیاجائے گا۔ گرفتار شخص کو ایک سینٹر میں رکھا جائے گا جہاں اسے والدین سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ یہ قانون 6 سال کے لیے ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہناتھا کہ ایک منظم انداز سے بلوچستان کے نوجوانوں کو بدظن اور ایک دوسرے سے الگ کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے بلوچستان میں لوگ خود سے غائب ہوتے ہیں، بعد میں کسی دہشتگرد تنظیم کو جوائن کرتے ہیں اور الزام ریاستی اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔

اس سے قبل رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتا افراد کا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں لاپتا افراد کا مسئلہ حل ہو، اس بل کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے اور حکومت یہ گارنٹی دے کہ دوران حراست کسی کا قتل نہیں ہوگا۔

رکن اسمبلی شاہدہ رؤف کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلدی میں منظور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں کیا پاک بھارت تنازع کے بعد بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی ہوئی ہے؟

بعد ازاں انسداد دہشتگردی بلوچستان کا ترمیمی مسودہ قانون 2025 ایوان میں منظور کرلیا گیا، جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انسداد دہشتگردی ترمیمی مسودہ بلوچستان اسمبلی حراستی مراکز ریاستی ادارے لاپتا افراد وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی ترمیمی مسودہ بلوچستان اسمبلی حراستی مراکز ریاستی ادارے لاپتا افراد وی نیوز انسداد دہشتگردی لاپتا افراد افراد کا کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن