دتہ خیل: سیکیورٹی فورسز کا زبردست آپریشن، بھارتی دھن پر ناچنے والے 14 خوارج مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر کارروائی کرتے ہوئے 14 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے بلوچستان میں تمام دہشتگرد تنظیموں کو ’فتنہ الہندوستان‘ نام دیدیا
آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ رات خفیہ اطلاع پر کی گئی۔
ضلع دتہ خیل کے علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جو فتنہ خوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پرکیا گیا۔ فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 خوارج ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والےخوارج کے ٹھکانےکو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، علاقے سے مزید بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
مزید پڑھیے: فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں دہشتگرد حملے، مزید شواہد سامنے آگئے
ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھتے تھے اور مبینہ طور پر بھارت کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دینے کے لیے ٹی ٹی پی اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تنظیمیں بھارت کی سرپرستی میں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سیکیورٹی فورسز خوارج دتہ خیل شمالی وزیرستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سیکیورٹی فورسز خوارج دتہ خیل شمالی وزیرستان سیکیورٹی فورسز کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔