گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی سے پاس کردہ متعدد بلوں کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
لاہور: گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر نے صوبائی اسمبلی سے پاس کردہ متعدد بلوں کی منظوری دیدی ۔
پنجاب فنانشل ایڈوائزری سروسز بل، پولیس آرڈر ترمیمی بل اورپنجاب فرٹیلائزر کنٹرول بل کی منظوری دیدی گئی ،اسٹیمپ ترمیمی بل، پراونشل ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی دی گئی۔
امپیریل ٹیوٹوریل کالج یونیورسٹی بل اور لیڈز یونیورسٹی ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دی گئی،ٹائمز انسٹی ٹیوٹ ملتان بل، مکبر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گجرات بل 2025 کی منظوری بھی دیدی گئی ۔
اسی طرح نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس لاہور ترمیمی بل، ابوا یونیورسٹی فیصل آباد بل بھی منظور کرلیا گیا،موٹر وہیکل بل، پنجاب آرمز ترمیمی بل، جوڈیشل اکیڈمی ترمیمی بل ، اینٹی ٹیررازم ترمیمی بل کی بھی منظوری دیدی گئی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی منظوری
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔