پاک بھارت جنگ میں ریاست مخالف پروپیگنڈے کا الزام، علیمہ خان اور آفتاب اقبال سمیت 4 افراد طلب
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
پاک بھارت جنگ میں ریاست مخالف پروپیگنڈے کا الزام، علیمہ خان اور آفتاب اقبال سمیت 4 افراد طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 4 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں 4 افراد کو طلب کرلیا۔پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان، صنم جاوید، فلک جاوید اور یوٹیوبر آفتاب اقبال کو طلبی کے نوٹس جاری کردیے گئے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چاروں افراد 5جون کو لاہور آفس میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ نوٹس کے مطابق چاروں افراد کے خلاف 27 مئی کوانکوائری شروع ہوئی تھی۔ ذرائع این سی سی آئی اے نے بتایاکہ ملزمان نے پاک بھارت جنگ کے دوران ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا فیصلہ،کئی اہم ناموں کی شمولیت،متعدد کا اخراج خیبرپختونخوا کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا فیصلہ،کئی اہم ناموں کی شمولیت،متعدد کا اخراج وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری پاکستان اور امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے پر عزم ہیں، وزیراعظم ایران میں دو پاکستانی مزدور قتل، مسلح افراد نے ورثا کو ویڈیو بھی بھیج دی اگر آئی ایس آئی اور “را” ملکر کام کریں تو دہشتگردی میں کمی آئے گی، بلاول بھٹو غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری کا پھیلائو خطرناک، ریونیو میں کمی ہوئی ہے ، اسد شاہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔