کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہر سال 5 جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ ماحول کے تحفظ کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدامات اور آگہی کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے تحت ایک عالمی قدم ہے جس کا مقصد بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں کا مقابلہ کرنا ہے۔اس سال کا موضوع ''پلاسٹک آلودگی کا خاتمہ'' ہے، جو ہمارے سیارے بالخصوص ہمارے قیمتی بحری ماحول کو لاحق شدید خطرے کو اجاگر کرتا ہے۔

پلاسٹک آلودگی کی لعنت کسی سرحد کا لحاظ نہیں رکھتی، یہ بے رحمی سے ہماری جھیلوں، دریاوں اور سمندروں پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے فطری مناظر کو بدنما بناتی ہے، بلکہ جانداروں کے مسکن کو نقصان پہنچاتی ہے، ماحولیاتی نظام کو مفلوج کرتی ہے اور بے شمار انواع کو خطرے سے دوچار کرتی ہے۔ یہ پُر فریب خطرہ عالمی سطح پر لوگوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور ساحلی آبادیوں کی فلاح و بہبود کو متاثر کر تاہے۔ یہ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والا خطرہ نہیں، بلکہ دور حاضر کا ایک واضح خطرہ ہے۔

نوشہرہ: تین معصوم بچوں کے قتل کا معمہ حل، سگی دادی ہی قاتل نکلی

پاکستان کے لیے یہ خطرہ غیر معمولی حد تک سنگین ہے- قدرت نے پاکستان کو وسیع ساحلی پٹی عطا کی ہے جس سے لاکھوں افراد کی گزر بسر وابستہ ہے اور جو سمندری حیاتیاتی تنوع سے مالال مال ہے۔ ہمارے سمندروں کو انسانی سرگرمیوں کے بے پناہ دبا اور پلاسٹک سے پیدا ہونے والی بحری آلودگی کا سامنا ہے جو اس بیش بہا قیمتی اثاثے کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔

پاکستان، جس کی بحری معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، اپنی سمندری حالت سے واضح طور پر متاثر ہوتا ہے۔ کراچی بندرگاہ بحری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز اور ماحولیاتی زون ہے جو ٹھوس کچرے، مضر صنعتی فضلے، گندے پانی اور پلاسٹک کے کوڑے کے ڈھیروں کی بلا امتیاز تلفی سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ آلودگی نہ صرف سمندری ماحول کو تباہ کر رہی ہے بلکہ آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے جو حیاتیاتی تنوع کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل مارکیٹس میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں: نیتھلی بیکر

پاکستان نیوی میری ٹائم شراکت داروں کے ساتھ مل کر کراچی بندرگاہ کے ماحولیاتی حالات بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، سمندر میں پھینکے جانے والے آلودہ مواد کی مقدار ہماری کاوشوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے دو جہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے؛ اول، فضلے کو سمندر میں پھینکنے کے عمل کو سختی سے روکا جائے جس میں صنعتی فضلہ، سمندر میں تیل کے اخراج اور ٹھوس کچرا بالخصوص پلاسٹک جو سب سے زیادہ نقصان دہ اور ناقابلِ تحلیل ہے بارشوں کے دوران بڑی مقدار میں سمندر میں پہنچ جاتا ہے۔ دوم، اس فضلے کو جمع کیا جائے جو پہلے ہی ہماری بندرگاہوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے بندرگاہوں کی صفائی کے اقدامات پر زیادہ وسائل خرچ کرنے اور انہیں بحری تجارتی اور سمندری سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔

بجاش نیازی اور لاہور پولیس میں تنازعہ شدت اختیار کر گیا

پلاسٹک اور سمندری آلودگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے، پاکستان نیوی آگہی کے اقدامات کے ذریعے آلودگی کی اس لعنت کے خاتمے کا عزم ِنو کرتی ہے۔اس اہم دن کے موقع پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز نے ایک روزہ عالمی سیمینار کا اہتمام کیا ہے تاکہ اس مسئلے کے متعلق آگہی پھیلائی جائے اور ہمارے میرین ایکو سسٹم کے تحفظ کے اسباب اور طریقوں کو اُجاگر کیا جائے۔

میں تمام شراکت داروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آلودگی کے خاتمے کے لیے پاکستان نیوی کے فطری طریقوں پر مشتمل حل جیسے کہ مینگرووز کی شجر کاری، ابتدائی مرحلے میں آلودگی کی کمی، پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی، ساحلِ سمندر کی صفائی، فضلے کو سمندر سے نکالنے کے لیے اضافی اثاثہ جات کی تعیناتی، کوڑاکرکٹ کے پھیلا و کی روک تھام اور اس بڑھتے ہوئے بحران سے متعلق وسیع پیمانے پر شعور کے فروغ میں پاکستان نیوی کا ساتھ دیں تاکہ آنے والی نسل کے لیے محفوظ اور صحت مند مستقبل کو یقینی بنایا جائے۔

قومی اقتصادی کونسل نے معاشی اہداف اور ترقیاتی پلان کی منظوری دیدی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستان نیوی کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر