سربراہ پاک بحریہ سے سعودی نیول چیف کی ملاقات ، دفاعی تعلقات مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
راولپنڈی +اسلام آباد(نوائے وقت رپورٹ+خبر نگار خصوصی) سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے رائل سعودی نیول فورسز کے سربراہ وائس ایڈمرل عبدالرحمن الغریبی نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سعودی بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل عبدالرحمن الغریبی کو نیول ہیڈکوارٹرز میں آمد پر پاک بحریہ کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کے ذریعے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاک بحریہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ سربراہ سعودی بحریہ نے خطے میں بحری سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا اور پاکستان نیول اکیڈمی میں سعودی کیڈٹس کی معیاری تربیت کو بھی سراہا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کے دائرہ کار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا، سعودی بحریہ کے سربراہ کے حالیہ دورے سے دونوں ممالک بالخصوص مسلح افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔