حکومت کے پاس 7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی موجود ہے: وزیر توانائی اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اویس لغاری—فائل فوٹو
وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اس وقت 7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی موجود ہے، حکومت نیٹ میٹرنگ کو ختم نہیں کر رہی، موجودہ طریقہ کار کو زیادہ مؤثر، شفاف، پائیدار ماڈل میں بدلنے پر غور کر رہے ہیں، میں نے 18-2017ء میں نیٹ میٹرنگ متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیرِ توانائی اویس لغاری نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ میں مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے، اجلاس میں سولر انڈسٹری کے ماہرین، وفاقی و صوبائی اداروں، دیگراسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
وزیرِ توانائی اویس لغاری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی، تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کے مطابق کر رہے ہیں، اگر ہم یونٹس کی خریداری کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے متعلق بھی غور جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے جلد میٹر ریڈرز کا کردار ختم ہو جائے گا‘ وزیر توانائی اویس لغاریان کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے پے بیک پیریڈ 3 سال یا اس سے کم ہے، اگر ایک صارف 40 فیصد بجلی خود استعمال کر رہا ہے تو 3 سال میں رقم کی واپسی قابلِ قبول تجارتی ماڈل ہے، حکومت نے 9 ہزار میگا واٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیا۔
اویس لغاری نے کہا کہ کیپٹو پاور صارفین پر لیوی عائد کر کے انہیں گرڈ کی طرف واپس لایا گیا، جون 2024ء سے اب تک صنعت کو دی جانے والی کراس سبسڈی کا حجم 174 ارب روپے ہے، صنعتی نرخوں میں 31 فیصد تک کمی آئی اور صنعتی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں مختلف صارفین کےلیے 14 سے 18 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، حکومت نے بڑے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کی جس سے نرخوں میں کمی آئی، بجلی کے طویل مدتی منصوبوں میں ایسے منصوبے شامل نہیں کیے گئے جن کی ضرورت نہیں تھی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کے پاس اس وقت 7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی موجود ہے، یہ بجلی بغیر کسی سبسڈی کے 7 سے 7.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: توانائی اویس لغاری ہزار میگا واٹ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔