عازمین حج کی خدمت: مسجد نمرہ کو ہزاروں مربع میٹر قالین سے سجا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
سعودی حکام نے حج کے دوران عازمین کے لیے ایک ضروری مقدس مقام کوہ عرفات کے قریب واقع نمرہ مسجد کو ہزاروں مربع میٹر قالین سے سجا دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق وزارت اسلامی امور، دعوت و رہنمائی نے بدھ کے روز اعلان کیاکہ نمرہ مسجد کو مکمل طور پر تیار اور اپ گریڈ کر دیا گیا ہے تاکہ عازمین حج کو سہولت میسر آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں مناسک حج کا آغاز ہوگیا، حجاج کرام آج منیٰ میں رات گزاریں گے
مسجد نمرہ میں عازمین حج کے آرام کرنے کے لیے ایک لاکھ 25 ہزار مربع میٹر قالین سجا دی گئی ہے، جبکہ گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزارت نے مزید کہاکہ فرش پر عکاس پینٹ کیا گیا ہے، اور ارد گرد کے صحنوں میں 117 فوگ پنکھے لگائے گئے ہیں تاکہ درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے۔
اب مسجد نمرہ لاکھوں عازمین حج کے استقبال کے لیے تیار ہے، اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ اور منیٰ کے مقدس مقامات کی طرف روانہ ہوں گے۔
وزارت نے حج کے دوران درجہ حرارت کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد کے وینٹیلیشن، ایئر کنڈیشنگ اور پیوریفیکیشن سسٹم کو اپ گریڈ کیا ہے۔
حجاج کے لیے صحت مند ماحول پیدا کرنے کے لیے وزارت نے 70 واٹر چلرز لگائے ہیں، جس سے حجاج کرام کو سہولت میسر آئےگی۔
یہ بھی پڑھیں اس سال حج کے لیے کتنے لاکھ لوگ سعودی عرب پہنچے؟
نمرہ مسجد دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں بیک وقت قریباً 4 لاکھ نمازیوں کی گنجائش موجود ہے، اور اس کے 72 دروازے ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے اس مقام پر اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews حجاج کرام عازمین حج قالین مسجد نمرہ مقدس مقام وزارت حج وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قالین وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی