بھارت میں مسلمانوں کا معاشی استحصال، صرف ہندوؤں کیلئےجاب پلیٹ فارمز متعارف
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
بھارت میں مسلمانوں کا معاشی استحصال کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ مودی سرکار نے صرف ہندوؤں کے لیے جاب پلیٹ فارمز متعارف کرادیا۔
رپورٹ کے مطابق بی جے پی سرکارنے بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیخلاف منظم معاشی جنگ چھیڑ دی، بھارت میں ہندوؤں کے لیے مخصوص نوکریوں کے پلیٹ فارمز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
بھارتی مسلمانوں کو نوکریوں سے محروم رکھنے کیلئے 'کال ہندو' کے نام سے ایپ متعارف کرا دی گئی، کال ہندو ایپ صرف ہندو امیدواروں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
'کال ہندو' پلیٹ فارم کی افتتاحی تقریب مہاراشٹرا کے وزیر منگل پربھات لوڈھا نے کی۔
کال ہندوایپ کے موجد ویشال دوروفے کے مطابق ہمارا ہندو سماج سب سے آگے ہونا چاہیے، ویشال دوروفے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے سابق رکن ہیں، کال ہندوایپ صرف ہندو امیدواروں کو ملازمت فراہم کرتی ہے۔
'کال ہندو' ایپ میں 'ہندو زون'، 'ٹریوو ہندو' اور 'ہندو منڈی' جیسے سیکشن شامل ہیں، ہندوؤں کے لیے مخصوص ملازمت کے پلیٹ فارمز کا مقصد مسلمانوں کامعاشی بائیکاٹ کرنا ہے۔
انتہا پسند بی جے پی رہنما نیتیش رانے اور ٹی راجہ سنگھ نے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی حمایت کی، ویشال دوروفے کی جانب سے ایپ بنانا بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت کے آئین کا آرٹیکل 15 مذہب کی بنیاد پر امتیاز سے منع کرتا ہے، 'کال ہندو' پلیٹ فارم میں صارفین کو آدھار کارڈ کے ذریعے رجسٹریشن کی ضرورت ہے، 'کال ہندو' پلیٹ فارم کا مقصد صرف بھارتی ہندوؤں کے لیے روزگار کی فراہمی کو فروغ دینا ہے۔
بھارت میں مذہب کی بنیاد پر ملازمتوں کی فراہمی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، کال ہندو ایپ کا مقصد بھارت میں مذہبی امتیاز کو فروغ دینا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پلیٹ فارمز بھارت میں کال ہندو کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔