Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:09:58 GMT

بھارت کوشکست،پاک امریکہ قربتیں پھربڑھنے لگیں

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

بھارت کوشکست،پاک امریکہ قربتیں پھربڑھنے لگیں

اسلام آباد (طارق محمودسمیر)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ایک بارپھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے پر امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کوامن
کاپیامبرقراردے دیتے ہوئے کہاہے کہ امریکی صدرکے بیانات کاہم خیرمقدم کرتے ہیں ،انہوں نے دونوں ممالک پر زوردیاہے کہ وہ جنگ کی بجائے تجارت کو فروغ دیں،پاکستان خطیمیں جنگ نہیں امن چاہتاہے،دہشت گردی خلاف جنگ میں 90ہزارجانوں کی قربانیاں دیں،پاکستان نے نہیں ،بھارت نے جارحیت کی تھی دشمن کے 6طیارے تباہ کئے اور جب 10مئی کی صبح بھارت کی دوسری مرتبہ جارحیت کاپاکستان کی افواج نے مؤثرجواب دیاتو امریکہ سے فون آیاکہ بھارت سیزفائرکرناچاہتاہے،وزیراعظم نے یہ بات امریکی سفارتخانے میں امریکہ کے 249ویں یوم آزادی کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپرخطاب کرتیہوئے کہی،امریکہ کا یوم آزادی چارجولائی کو ہوتاہے لیکن امریکی سفارتخانے نے پاکستانی وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث یہ تقریب 4جون کو منعقد کی ،10مئی کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی اور امریکی صدرنے مسئلہ کشمیرپر نہ صرف ثالث بننے کااعلان کیابلکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں اپناکرداراداکیا،سیزفائرکرایا،پاکستان اور عالمی دنیامیں صدرٹرمپ کے اس اقدام کو نہ صرف سراہاگیابلکہ انہیں امن کا پیامبرکہاجاتاہیلیکن بھارت میں مودی سرکارشدیدتنقید کی زدمیں ہے اور بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس ہو یادیگرجماعتیں ،انہیں سرنڈرمودی کاخطاب دے چکی ہیں،اس حوالے سے دیکھاجائے تو وزیراعظم کا امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب میں بطورمہمان خصوصی شرکت کرنااہمیت کا حامل اور اس بات کاواضح اشارہ ہے کہ پاکستان اورامریکہ کے تعلقات نہ صرف مضبوط ہوئے ہیں بلکہ انہیں مزید وسیع بنانے کے مواقع موجود ہیں ،تجارت کو بڑھایاجاسکتاہے ٹیرف کا مسئلہ بھی مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق کیاگیاہے،وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات کا آغاز اس وقت ہوا جب 1947میں آزادی کے بعد امریکہ ان چندابتدائی ممالک میں تھا جنہوں نے پاکستان کوتسلیم کیا،عالمی سفارتی محاذ پر بھارت کو سبکی ہورہی ہے ،بلاول بھٹوزرداری امریکہ کے دورے پرہیں اور وہاں انہوں نے نہ صرف اہم ملاقاتیں کی ہیں بلکہ کئی انٹرویوزبھی دیئے ہیں جن میں ایک تجویزیہ بھی سامنے آئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیاں آئی ایس آئی اور را مل کر کام کریں یہ تجویزایک ایسے موقع پرآئی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سیزفائرہواہے جب پہلگام کاواقعہ ہواتھاتووزیراعظم شہبازشریف نے غیرجانبدارعالمی تحقیقات کی تجویزدی لیکن بھارت نے اس تجویزکو تسلیم کرنے کی بجائے الزام تراشی کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کئے جن کا پاکستان نے مؤثرجواب دیا،یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ بلاول بھٹو نے را اور آئی ایس آئی کے دہشت گردی کے خلاف ملکر کام کرنے کی جوتجویزدی ہے یہ ان کی اپنی تجویزہے یا حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کی رائے سے دی ہے،اس کی وضاحت تو بلاول بھٹوزرداری ہی کرسکتے ہیں جہاں تک بھارت کا تعلق ہے ،اس نے پہلگام واقعہ کی غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات کی تجویز نہیں مانی تو یہ کیسے مانے گا،بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے حکومت کئی ثبوت پیش کرچکی ہے،وزیراطلاعات ونشریات عطاء تارڑنے آج ایک پریس کانفرنس میں تفصیلی بات کی ہے اور کئی عالمی میڈیاکی رپورٹس بھی شیئرکی ہیں جن میں واضح طورپرکہاگیاہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں دہشت گردی کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کررہی ہے،دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرآج جمعرات کواہم دورے پر آج سعودی عرب پہنچیں گے ،اس دورے کی دعوت سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان نے دی ،دورے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،وزیراطلاعات ونشریات عطاء تارڑبھی شامل ہیں،دورے کی خاص بات یہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کاوفدخانہ کعبہ میں عیدالاضحی کی نمازبھی اداکریں گے اور سعودی شاہی خاندان اورولی عہد کی طرف سے دیئے جانے والے ضیافت میں بھی شرکت کریں گے،ان کی ملاقات بھی ہوگی جس میں وزیراعظم پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں سعودی عرب کے کردارپر ان کاشکریہ اداکریں گے ۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان اور اور بھارت امریکہ کے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار