وزیراعظم کا ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار کیلیے سعودی عرب بھیجنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ہزاروں لیبر، ہائی اسکلز اور ہنر مند لوگوں کی ضرورت ہے جس کیلیے میں ایڑھی چوڑی کا زور لگا کر ہزاروں نوجوانوں کو بھیجنے کی کوشش کروں گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کی افتتاحی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی عرب کے دورے کے موقع پر مجھے وہاں پر اے آئی، جدید ٹیکنالوجی سسٹم کے بارے میں بتایا گیا، جس پر میں نے کہا کہ ہمارے پاس تو تیل کے ذخائر نہیں اور اتنا خرچ بھی نہیں کرسکتے۔
وزیراعظم کے مطابق یہ سُن کر سعودی حکام نے کہا کہ ہماری یہ سہولیات کروڑوں پاکستانیوں اور طلبا کیلیے بالکل مفت ہیں، اس سلسلے میں پاکستانی سفیر اور حکام کی سعودی حکام کے ساتھ گزشتہ روز بات چیت بھی ہوئی ہے جس پر جلد خوش خبری سننے کو ملے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں نے اس پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور ایک بار پھر اُن کے وژن 2030 کو سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں 2030 میں ایک بڑی نمائش اور 2034 میں فیفا فٹبال ورلڈکپ کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس کیلیے سعودی عرب کو ہزاروں، لیبر، اعلیٰ تربیت یافتہ اور ہنرمند افراد کی ضرورت ہوگی۔
وزیراعظم نے عندیہ دیا کہ ’میں اپنی ایڑھی چوڑی کا زور لگاکر ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کیلیے سعودی عرب بھیجنے کی کوشش کروں گا تاکہ ہمارے نوجوان وہاں جاکر ملک کا نام روشن کریں‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج میں قوم کے ہونہار بچوں کے سامنے کھڑا ہوں اور شکر گزار ہوں اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر مجھے خدمت کا موقع دیا، پوری قوم کی جانب سے ہونہار طلبا، اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ 2011 سے شروع ہونے والے اس پروگرام کے رواں سال منصوبے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ بیگ پر بنا ہوا لوگو تھا، اُس پر شہباز پاکستان لکھا تھا اور اس کے ذاتی تشہیر ہورہی تھی، پھر میں نے رانا مشہود اور ٹیم کو ہدایت کر کے اُسے ہٹوایا جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اسکیم کے تحت پورے ملک میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ 100 فیصد میرٹ پر تقسیم ہورہے ہیں، سال 2011 سے یہ پروگرام شروع ہوا اور اس سال تک پروگرام پر چالیس پچاس ارب خرچ ہوئے مگر بچوں کی تعلیم، ہنر اور عظیم بنانے کیلیے 500 ارب بھی خرچ کریں گے۔
شہباز شیرف نے مزید کہا کہ وعدہ ہے کہ لیپ ٹاپ سے بات بہت آگے چلی گئی اور جدید ٹیکنالوجی، اے آئی کا دور آگیا ہے، انشا اللہ ہم اپنے بچوں کو اس سہولت کو بھی جلد فراہم کریں گے تاکہ ملک خودمختار اور اُن کا مستقبل روشن ہوں، میں وعدہ کرتا ہوں عہدے اور اپنی پوری زندگی طلبا کیلیے وسائل نچھاور کرتا رہوں گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔