اسلام آباد(اوصاف نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک بھارت کیساتھ شملہ معاہدہ ختم ہوگیا اور ہم 1948 والی پوزیشن پر واپس آگئے ہیں۔ اب لائن آف کنٹرول لائن کو سیز فائر لائن سمجھا جائے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے، ہم امن چاہتے ہیں، لیکن اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پہلے سے بڑھ کر جواب دیا جائےگا۔

انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی پالیسی برقرار رہنی چاہیے، افغانوں کو اپنے ملک میں جاکر بسنا چاہیے، کیوں کہ افغانوں کی ہماری سرزمین سے کوئی وفاداری نہیں۔

وزیر دفاع نے کہاکہ میں کئی میٹنگز میں موجود ہوتا تھا امریکا کہتا تھا حقانیوں کا کچھ کریں، میں نے 1972 میں خیبر روڈ پر پختونستان کا جھنڈا دیکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کل پشاور جرگے میں لوگوں نے کھل کر بات کی، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فاٹا کے لوگوں کو سمجھایا کہ دشمن کو مہمان نہ بنائیں، ہم ایک مہینے میں صفایا کردیں گے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں وفد بیرون ملک ہے، ہمیں دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم خطے میں جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، لیکن اگر جارحیت کی گئی تو جواب دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ فیٹف کے خطرے کے مستقل حل کے لیے اندرونی مسائل کو ختم ہونا چاہیے، افغانستان سے ہمارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس میں بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔ کوئی مسلمان ایسے مسلمانوں کو ذبح نہیں کرسکتا جیسے یہ کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہاکہ کالعدم بی ایل اے اور ان کے ہینڈلرز بھارت میں ہیں، سی پیک کے مخالف ممالک میں بھارت شامل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاک بھارت جنگ کے بعد ہم دفاعی طور پر ایک قوت بن کر سامنے آئے ہیں، اور ہمارے پاس جے ایف 17 تھنڈر جہازوں کے آرڈر آ رہے ہیں۔

ڈی آئی خان میں دوماندہ پل کے قریب نجی کمپنی کے 11 ملازمین اغوا، 6 بازیاب

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ وزیر دفاع

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد