بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہے، خطے میں بالادستی کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور خطے میں بالادستی کے بھارت کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ حالیہ دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ کے ساتھ باہمی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے ادوار بھی ہوئے۔ یہ دورہ 10 مئی کے بعد چین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی تنظیم کے حوالے سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ 10 یا 11 مئی کی رات کو وزارت خارجہ نے اس دورے پر ٹویٹ بھی کیا جب کہ وزیر اعظم کی جانب سے پہلگام پر آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو چینی حکام نے سراہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا، آج بھارت میں پاکستان کی سفارتی کامیابی پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ عالمی برادری ہماری پوزیشن کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دوست ممالک کو آگاہ کیا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا ہم پر الزام لگایا۔ اب پوری دنیا پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کررہی ہے۔ بھارتی جارحیت پر چین نے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا۔ خطے میں بالادستی کے بھارتی دعوے ہوا میں اڑ گئے۔ پاکستان نے مؤثر اندز میں حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی وفد واشنگٹن گیا ہے۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد پاکستانی مؤقف اجاگر کرنے لیے عالمی دورے پر ہے اور دنیا نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی تعریف بھی کی ہے۔ ہم نے سفارتی محاذ پر تمام ممالک کو اہمیت دی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روس کو بالکل نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ایک وفد روس میں بھی موجود ہے۔دوسری طرف بھارت کا تین چار درجن پر مبنی ایک وفد بھی بھارتی موقف پیش کر رہا ہے، تاہم ہمارے موقف کی ساکھ اور صداقت بہترین ہے۔ بھارت نے ایف 16 اڑانے کا الزام لگایا، ہم نے اس الزام کی تردید کی اور دنیا نے خود اس کی حقیقت کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ترکیہ میں دو طرفہ ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔ ہم نے 23 اپریل سے 11 مئی تک دنیا کو پوزیشن واضح کی ہے۔ دنیا جانتی ہے پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں اور بھارتی جارحیت کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم خود ترکیہ پہنچے، اس وفد میں وزرا بھی شامل تھے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ ترکیہ کا ایک روزہ دورہ تھا، جہاں تمام ملاقاتیں مفید رہیں۔ ہم نے ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ترکیہ میں صدر اِردوان، وزیر خارجہ اور ان کی پوری ٹیم تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 6 مئی کو مجھے کال آئی کہ بھارت نے حملہ کیا ہے اور بھارتی جیٹ ہوا میں ہیں۔ سب سے پہلی کال ترکیہ کی آئی کہ ہمیں بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہیں پتا تھا کہ یہ معاملہ اگر آگے نکلا تو بات بگڑ جاے گی۔ ترکیہ کے صدر نے اچھا کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ترکیہ صدر کے دورہ میں ایک نیا فورم بنایا گیا تھا جو کہ متعدد کمیٹیوں کی نگرانی کرے گا۔ ترکیہ کےبعد ایران پہنچے جہاں ایرانی صدر نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس خطے میں تجارت بڑھانے کی بات کی۔ ای سی او پر بات ہوئی۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا اگلا سربراہ اجلاس آذربائیجان میں ہونے جا رہا ہے، ہم اس اجلاس میں شرکت بھی کریں گے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بحرانی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ بھارتی میڈیا نے ان کے دورہ کو منفی پیش کیا۔ ہماری ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کشمیر اور فلسطین پر کھل کر بات کی۔ ایران میں ملاقاتوں میں دونوں ممالک کا موقف یکساں تھا اور کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے دہشت گردی پر کہا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی 6 جیٹ فائٹر طیارے گرے، جن میں ایک یو اے وی تھا۔ ان 6 میں 3 رافیل طیارے تھے ۔ بھارتی وزیراعظم نے پلواما کے بعد کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو میں دیکھ لیتا۔ الحمدللہ! اللہ نے ہمیں عزت دی۔ آذربائیجان میں تو عوام ہماری فتح پر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 28 مئی کو آذربائیجان کا یوم آزادی تھا۔ آرمینیا کے ساتھ جنگ میں انہوں نے لاچن میں ایک نیا ائیرپورٹ بنایا ہے۔ ہم اور ترکیہ کے صدر اس علاقے میں اس ائیرپورٹ پر اترنے والی پہلی پرواز تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں بیانیہ ناکام ہونے پر اب آپس میں چپقلش شروع ہو چکی ہے۔ اگر علاقائی سالمیت اور قومی مفاد کی بات ہو گی تو ہم سب متحد ہیں اور یہ بات ہم نے ثابت کی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے نے پاکستان بھارت میں کہ بھارت بھارت نے تھا کہ
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز