سرِعام پھانسی پر لٹکاؤ، فنکاروں کا ثنا یوسف کے قاتل کو سخت سزا دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل پر شوبز شخصیات نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے بہیمانہ قتل پرعوام سمیت فنکاروں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم عمر حیات عرف کاکا نے ثناء کو اُس کے گھر میں گھس کر گولی مار کر قتل کیا۔
ملزم کو فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اُس کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور مقتولہ کا موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔
اسلام آباد پولیس چیف کے مطابق ملزم خود بھی ٹک ٹاکر تھا اور ثناء سے دوستی کا خواہشمند تھا، لیکن بار بار انکار پر اس نے انتہائی قدم اُٹھایا۔
اداکارہ ماہرہ خان، ماورا حسین، سجل علی، مایا علی، عمران عباس، فرحان سعید اور دیگر فنکاروں نے اس واقعے پر شدید ردِعمل دیا ہے اور قاتل کو نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماورا حسین اور دورِفشاں سلیم نے معاشرے میں موجود زہریلی سوچ اور ڈراموں میں دکھائی جانے والی زبردستی کی محبت کو اس سانحے کی جڑ قرار دیتے ہوئے پروڈیوسرز، رائٹرز اور میکرز کیلئے اسے ویک اپ کال قرار دیا ہے۔
فنکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس ذہنیت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یاسر حسین سمیت دیگر اداکاروں نے مجرم کو سرِعام پھانسی پر لٹکانے جیسی سخت سزا کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کا مطالبہ ٹک ٹاکر کیا ہے
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟