ٹرمپ کے دوست چارلی کرک کے قاتل کے ٹرانسجنڈر کیساتھ رومانوی تعلقات تھے؛ انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
امریکا میں قدامت پسند تجزیہ کار اور صدر ٹرمپ کے نہایت قریبی دوست چارلی کرک کو قتل کرنے والے نوجوان سے متعلق حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف ریاست یوٹا کے گورنر اسپینسر نے سی این این سے گفتگو میں کیا کہ ملزم کے ایک ٹرانس جینڈر کے ساتھ رومانوی تعلقات تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم ٹائلر رابنسن اپنے ٹرانس جینڈر کا ہم کمرہ بھی تھا۔ جو اب پولیس کی تحویل میں ہے اور غیر معمولی حد تک تفتیش میں تعاون کر رہی ہے۔
امریکی ریاست یوٹا کے گورنر نے اتوار کو بتایا کہ قدامت پسند انفلوئنسر چارلی کرک کے مشتبہ قاتل کے اپنے ٹرانسجنڈر روم میٹ کے ساتھ رومانی تعلقات تھے۔
گورنر کے بقول ٹرانس جینڈر نے تفتیش میں بتایا کہ اس نے تبدیلی جنس کا آپریشن کروا رکھا ہے اور وہ بائیں بازو کے خیالات رکھتی ہے اور اس کا فروغ چاہتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں گورنر اسپینسر نے بتایا کہ ملزم کی ٹرانس جینڈر دوست کو چارلی کرک پر حملے کا پیشگی علم نہیں تھا۔
گورنر اسپینسر کوکس نے توقع ظاہر کی کہ 22 سالہ رابنسن کے خلاف فرد جرم منگل کو عائد کی جائے گی۔
چارلی کرک کے ملزم کے بائیں بازو کی متحرک ٹرانس جینڈر کارکن کے ساتھ تعلقات سامنے آنے کے بعد قتل کے محرکات کو اس سے جوڑا جا رہا ہے۔
جس پر ٹرمپ کی ایک اور قریبی قدامت پسند انفلوئنسر لاورا لومر نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسجنیڈر تحریک کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔
اسی طرح ایلون مسک نے بھی لندن میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا تھا کہ "بائیں بازو کی یہ جماعتیں قاتل جماعت ہیں۔
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر انھوں نے جنس کی تبدیلی کے علاج پر پابندی اور بائیں بازو کے نظریات کی مخالفت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل قدامت پسند سیاسی تنظیم ’یو ایس ٹرننگ پوائنٹ‘ کے بانی چارلی کرک کو یونیورسٹی میں ایک سیمینار سے خطاب کے دوران گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چارلی کرک
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔