مکہ مکرمہ:

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں نمازِ عید کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے جن میں لاکھوں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔

عید کی نماز کے بڑے اجتماعات میں امت مسلمہ کے اتحاد، عالم اسلام کی ترقی، اور فلسطین و دیگر مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

مسجد الحرام میں نمازِ عید کی امامت حرمین شریفین کے امام نے کی جبکہ مسجد نبوی میں بھی نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ادھر حجاج کرام مزدلفہ سے منیٰ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ حج کے اہم رکن رمی جمرات کی ادائیگی کے ساتھ بڑے شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں، جس کے بعد قربانی، حلق یا قصر اور احرام کی حالت ختم کرنے کے مناسک ادا کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد حجاج طواف زیارت اور سعی مکمل کریں گے۔

سعودی حکام کے مطابق حجاج کی سہولت اور سلامتی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وزارت حج و عمرہ، وزارت داخلہ، اور دیگر متعلقہ اداروں نے مشاعر مقدسہ میں مربوط اور منظم آپریشن ترتیب دیے ہیں۔

رائل سعودی فورسز کے ہیلی کاپٹرز مشاعر مقدسہ کی فضائی نگرانی پر مامور ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔ ٹریفک کنٹرول، صحت و طبی امداد، صفائی، رہنمائی اور سیکیورٹی کے لیے ہزاروں اہلکار دن رات اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی