خیبر پختونخوا حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن اور سابق قبائلی اضلاع میں زیرِ استعمال نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ اور مقامی سطح پر رجسٹریشن کے لیے اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی قمیت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبر پختونخوا کے مطابق، مالاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں بڑی تعداد میں نان کسٹم گاڑیاں چل رہی ہیں جن کی ایک بڑی تعداد محکمہ اور پولیس کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔ پروفائلنگ کا عمل نگران دور سے شروع ہوا۔

محکمہ ایکسائز کے ایک افسر نے بتایا کہ مالاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں نان کسٹم گاڑیوں کی رجسٹریشن اور پروفائلنگ کا عمل نگران دور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ان گاڑیوں کو دہشتگردی میں استعمال سے روکنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس دوران مالاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:نان کسٹم پیڈ اشیا کے نام پر شہری لٹنے لگے، اس سے بچا کیسے جائے؟

انہوں نے بتایا کہ اس دوران 2 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی پروفائلنگ کی گئی، جبکہ اب بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں باقی ہیں جن کے لیے اب یکم اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

پروفائلنگ ہوتا کیا ہے؟

ایکسائز کے ایک متعلقہ افسر نے بتایا کہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشتگردی میں استعمال ہوتی ہیں، اور پولیس و دیگر اداروں کے پاس ڈیٹا اور دیگر تفصیلات نہ ہونے کے باعث دہشتگردوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اب ایپکس کمیٹی نے تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفائلنگ میں گاڑی کی تفصیلات، انجن نمبر، ماڈل، رنگ، اور مالک کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں، اور اسے ایکسائز کے ڈیٹا سے لنک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفائلنگ کے بعد گاڑی کے مالک کا پتا چل جاتا ہے کہ گاڑی کس کے زیرِ استعمال ہے، کب سے ہے، اور اگر کسی واقعے میں استعمال ہو تو مالک جواب دہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پروفائلنگ بالکل مفت ہے اور کسی قسم کی کوئی فیس نہیں ہے۔

پروفائلنگ میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

ایکسائز کے مطابق ذاتی گاڑیوں کے مالکان پروفائلنگ میں دلچسپی لے رہے ہیں اور خوشی سے اپنی گاڑیوں کی مقامی سطح پر رجسٹریشن کروا رہے ہیں، اور پُرامید ہیں کہ حکومت ان گاڑیوں کے لیے کوئی اسکیم لائے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد پروفائلنگ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ پروفائلنگ کسی طرح روک دی جائے۔

 انہوں نے بتایا کہ ایک بار اگر تمام گاڑیوں کی پروفائلنگ ہو گئی، تو یہ لوگ افغانستان سے گاڑیاں نہیں لا سکیں گے، جس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پروفائلنگ کے حوالے سے ان لوگوں کو بھی اعتراضات ہیں جن کے پاس کٹ گاڑیاں ہیں جو غیر قانونی ہیں۔

یکم اگست کے بعد بغیر پروفائل گاڑیوں کے خلاف کارروائی ہوگی؟

محکمہ ایکسائز کے افسر نے بتایا کہ حکومت تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو قانون کے دائرے میں لانا چاہتی ہے اور اس کا فیصلہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ہوم ڈیلیوری کس طرح کی جارہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ نگران دور سے پروفائلنگ کا عمل جاری ہے، اور اب حکومت آخری مرحلے کی جانب جا رہی ہے، جس میں حکومتی احکامات نہ ماننے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ یکم اگست آخری ڈیڈ لائن ہے، جس کے بعد اگر گاڑیاں باقی رہ گئیں تو ممکن ہے کہ اس میں توسیع کی جائے، لیکن اگر گاڑی مالکان پروفائلنگ نہ کروانے پر بضد رہے، تو کارروائی ہو گی اور گاڑیاں ضبط بھی کی جا سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خیبرپختونخوا ڈیڈ لائن قبائلی اضلاع مالاکنڈ ڈویژن محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نان کسٹم گاڑیاں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا ڈیڈ لائن قبائلی اضلاع مالاکنڈ ڈویژن محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نان کسٹم گاڑیاں گاڑیوں کی پروفائلنگ انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں محکمہ ایکسائز پروفائلنگ کا کہ پروفائلنگ ایکسائز کے گاڑیوں کے کے مطابق ڈیڈ لائن کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن