وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے آثار نظر نہیں آ رہے، ہم آئینی حق کے تحت احتجاج کریں گے اور زورِ بازو سے موجودہ نظام کو شکست دیں گے۔ جب عدلیہ آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل ہوگی، تب عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات بے وزن ثابت ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اڈیالہ جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے قریباً 2 گھنٹے طویل ملاقات کی، جو جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ، عید کے بعد پارٹی کی تحریک، اور دیگر سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔

ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی بجٹ کی تیاری سے قبل اقتصادی ٹیم کو عمران خان سے ملاقات کرانا چاہتے ہیں، اور اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی تو آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: عمران خان ناحق قید ہے، علی امین گنڈاپور وزیراعظم اور آرمی چیف کی موجودگی میں بول پڑے

ان کے مطابق عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی فنڈز براہ راست اراکین اسمبلی کو نہ دیے جائیں بلکہ اسکیموں کی منظوری کے بعد فنڈز جاری کیے جائیں، تاکہ وسائل صرف انسانی ترقی پر صرف ہوں۔

وزیراعلیٰ نے موجودہ نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کا رہنما ناحق جیل میں قید ہے، اور اب بھی عدالتی کارروائی میں تاخیر کے ہتھکنڈے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نظر آ رہا ہے کہ عدلیہ فیصلے خود نہیں کر رہی، پراسیکیوشن تاخیر کر رہی ہے، اور ہمیں مسلسل احتجاج کی طرف دھکیلا جا رہا ہے‘۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی تحریک سڑکوں پر لے آئے گی اور صبر و تحمل سے عوامی فیصلہ حاصل کرے گی۔ ان کے بقول، ’ہمیں گولیاں مارنے کی تاریخ دنیا میں نہیں ملتی، لیکن ہم نے برداشت کا راستہ اپنایا ہے، تاہم اگر ظلم کا مقابلہ کرنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ملک پر قابض قوتیں اسے تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں، آئین و قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اور عوام کو غلام بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’ہم نہ غلام پیدا ہوئے ہیں اور نہ ہی غلامی قبول کریں گے، اگر طاقت کے زور پر دبایا گیا تو ہم بھی مزاحمت میں اسی زبان میں جواب دیں گے‘۔

مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور کا ریاستی اداروں کے خلاف بیان کھلی بغاوت کے مترادف، گورنر خیبرپختونخوا

بشریٰ بی بی کی نظربندی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کو 14 ماہ سے قید رکھنا شرمناک عمل ہے، سیاسی اختلافات ہوتے رہے ہیں لیکن خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اس قوم کے لیے ایک بڑی قربانی دے رہے ہیں، اور ایسے لمحات قوموں کو بار بار نہیں ملتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس نظام کو ختم کرنے کے لیے زورِ بازو استعمال کرنا پڑا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے ساتھ حقوق کی جنگ میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہو رہی ہے، این ایف سی ایوارڈ سے متعلق اجلاس اگست میں بلائے جانے کی امید ہے، جبکہ اسٹیبلشمنٹ سے بھی رابطہ ہے اور پاکستان کے مفاد میں بات چیت پر آمادگی موجود ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان تحریک کے حوالے سے مزید کمیٹیاں بھی تشکیل دے سکتے ہیں، اور وہ خود اس تحریک کا حصہ ہیں۔ ’میں وزیر اعلیٰ کے طور پر آئینی اختیارات کا مکمل استعمال کروں گا۔ اگر کسی نے گولی چلائی تو جواب بھی ملے گا‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان علی امین گنڈاپور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان