غزہ میں اسرائیلی فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم حماس کے زیر استعمال سرنگ کی موجودگی کی اطلاع پر عمارت میں داخل ہوئی تھی۔ اسرائیلی میڈیا نے 4 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ جب عرب میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ کے علاقے خان یونس میں ملٹری آپریشن کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی 12 رکنی ٹیم کے ایک عمارت میں داخل ہوتے ہی زوردار دھماکا ہوگیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا اتنی شدید نوعیت کا تھا کہ رہائشی عمارت دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کا ڈھیر بن گئی۔ عمارت کے ملبے تلے درجن کے قریب اسرائیلی فوجی دب گئے۔ امدادی کاموں کے دوران 4 لاشیں برآمد ہوئیں جب کہ زخمیوں میں سے ایک نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم حماس کے زیر استعمال سرنگ کی موجودگی کی اطلاع پر عمارت میں داخل ہوئی تھی۔ اسرائیلی میڈیا نے 4 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ جب عرب میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ اسی ہفتے دو مختلف واقعات میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے تھے۔ آج کے واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں سے یہ تعداد 9 ہوگئی۔ غزہ میں حماس کیساتھ دو بدو جھڑپوں میں مارے گئے اسرائیلی فوجیوں کی مجموعی تعداد 430 ہوگئی۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 18 مارچ 2025 کو دو ماہ کی جنگ بندی کو یک طرفہ طور پر ختم کرکے غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تب سے لے کر اب تک غزہ میں اسرائیلی فوج کے 5 ڈویژنز تعینات کیے گئے ہیں جس کا مقصد حماس کو ختم کرکے شہر میں کسی نئی جماعت یا قیادت کو اقتدار دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔