وزیرِ اعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں، ان کے اہلِ خانہ اور آذربائیجان کے عوام کو عید الاضحیٰ کی مبارک باد دی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے جس کے دوران انہوں نے انہیں اور قطر کے عوام کو عیدالاضحیٰ کی مبارک باد پیش کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لاچن کے حالیہ دورے میں گرم جوش استقبال پر صدر الہام علیوف کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے پاک بھارت کشیدگی میں آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان آذربائیجان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔