آلائشوں کیلئے 1 کروڑ 20 لاکھ شاپر تقسیم کیے ہیں: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
عظمیٰ بخاری—فائل فوٹو
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ آلائشوں کے لیے 1 کروڑ 20 لاکھ شاپر تقسیم کیے گئے ہیں۔
لاہور سے جاری کیے گئے بیان میں وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں صفائی مہم جاری ہے۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی گاڑی کو کینال روڈ پر حادثہ پیش آیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لاہور سے راولپنڈی تک اٹک سے صادق آباد تک ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں، پنجاب میں 3 دن بلا تعطل صفائی مہم جاری رہے گی۔
عظمیٰ بخاری نے اپیل کی ہے کہ شہری ذمے داری کا مظاہرہ کریں ویسٹ مینجمنٹ عملے سے تعاون کریں۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات کا یہ بھی کہنا ہے کہ قربانی کے بعد سڑکوں کو عرقِ گلاب اور فینائل سے دھویا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔